کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے شوہر نے تمام گھر والوں کےسامنے مجھے ان الفاظ کے ساتھ طلاق دیدی تھی” ثناء میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ یہ جملہ تین بار کہا تھا ،جس کے بعد تین چار مفتیوں سے زبانی طورپر مسئلہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالتِ حمل میں طلاق نہیں ہوتی ،اس وقت میرا ساتواں مہینہ تھا ،پھر بچہ بھی ہوگیا ،اس وقت تک ہم ساتھ رہے، اب آپ بتائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟
نوٹ: شوہر سے فون پر رابطہ ہوا ،وہ سوال میں مذکور دو طلاقوں کا حسبِ مذکور اقرار کررہاہے،جبکہ اس کا کہنا ہے کہ دوبار طلاق بولنے پر لوگ مجھے پکڑ کر باہر لے گئے پھر میں نے ایک بار کہا جو میری بیوی نے نہیں سنا ،لہذا آپ رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت حال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ،اب رجوع کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ اور اگر میاں بیوی دوبارہ ازدواجی حیثیت سے رہنا چاہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ حمل کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اسی طرح بیوی کا الفاظِ طلاق سننا بھی شرعاً ضروری نہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نےمذکور الفاظ ” ثنا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ تین مرتبہ کہہ دیئے ہوں،تواس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتااورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ بچے کی پیدائش پر سائلہ کی عدت مکمل ہوچکی ہے،اب سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کے لئے ضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھر ازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعد طلاق دیدے، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہرکے نکاح میں آ نا چاہے، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو،تونئے مہرکے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکر سکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ِثانی بیوی کو نکاح کےبعد طلاق دےگا،تا کہ وہ زوجِِ اول کے لئے حلال ہو جائے , مکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائز اور درست ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایۃ (البقرہ :230)۔
و فی الھدایة : ان کان الطلاق ثلاٰثا فی الحرۃ اوثنتین فی الامة لم تحل له حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا و الاصل فیه قوله تعالیٰ فان طلقھا فلا تحل له من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ اھ(2/409)۔
و فی فتح القدیر: و طلاق الحامل یجوز عقیب الجماع لانه لایؤدی الی اشتباہ وجه العدۃ ان اعتبرحاظرا و لانه زمان الرغبة فی الوطء لکونه غیر معلق لانه اتفق انھا قد حبلت احبه او سخطه فبقی آمنا من غیرہ اھ(3/337)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0