کیا کسی کے انتقال کے بعد 40 روز تک گھر کو خالی یا بند کر کے باہر نہیں جانا چاہیئے ؟ پلیز رہنمائی کریں ۔
واضح ہو کہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا شرعاً درست نہیں سوائے بیوی کےکہ اس کے لئے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن تک عدت گزارنا لازم ہے،اور اس دوران اس کے لئے زیب و زینت کرنے اور بغیر کسی شرعی عذراور مجبوری کے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ، تاہم کسی کے انتقال کے بعد 40 دن تک سوال میں مذکور طرزِعمل اختیار کرنے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں،بلکہ اُسے لازم سمجھنا بدعت ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہے۔
قال اللہ تعالٰی : والذین یتوفّون منکم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر و عشرا الآیۃ اھ( سورۃ البقرۃ آیت 234 ) ۔
و فی تفسیر البغوی : قال ابن ابی نجیح عن مجاھد کانت ھذہ العدۃ یعنی اربعۃ اشھر و عشرا واجبۃ عند اھل زوجھا الخ ( ج1 ص 279 سورۃ البقرۃ ط : دار طیبۃ )۔
و فی الدر المختار : ( و لاتخرج معتدۃ رجعی و بائن ) بأیّ فرقۃ کانت علی ما فی الظھیریۃ الخ ( و فیہ ایضاً ) و یباح الحداد علی قرابۃ ثلاثۃ ایام فقط اھ
و فی رد المحتار تحت قولہ( و یباح الحداد الخ ) ای للحدیث الصحیح لا یحل لامراۃ تؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ان تحد فوق ثلاث الاّ علی زوجھا فانھا تحد اربعۃ اشھر و عشرا لخ ( ج3 ص 533 کتاب الطلاق فصل فی الحداد ط : سعید ) ۔
و فی السعایۃ : و رابعاً بان ما ذکرہ من روایات الکراھۃ معارضۃ بروایات الاجازۃ ( الی قولہ ) و قد مر ان الاصرار علی المندوب یبلغہ الی حد الکراھۃ فکیف اصرار البدعۃ التی لا اصل لھا فی الشرع الخ ( ج 2 ص 265 کتاب الصلوٰۃ باب صفۃ الصلوۃ ط : رشیدیہ ) ۔