السلام علیکم، میرا سوال طلاق کے حوالے سے ہے، میں نے اپنی بیوی کو 19 ستمبر کو طلاق دی ہے، میں نے اپنے والد سے طلاق نامہ بنوایا تھا، مجھے 3ایک بار اور ایک طلاق کا مسئلہ نہیں پتہ تھا ، کہ تین ایک دفعہ دینے سے3 ہوتی ہیں ، یا 3 ایک بار دینے سے ایک طلاق ہوتی ہے ، میرے والد پیپر بنواکے لائے تھے ، میں نے اس پر دستخط کر دیا ، میں کافی پریشر میں تھا فیملی کے طرف سے ، وائف مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی دوسرے شہر میں ، جب کہ میں نے کسی مولانا سے مشورہ نہیں کیا تھا ، جب میں نے دستخط کر کے جلد بازی میں اسکو پیپر سینڈ کردیئے ، اس کے بعد میں نے تفصیل سے پیپر پڑھا اس پے تین بار لائن لکھے ہوئے تھے طلاق کے ، جب کہ میری نیت ایک کی تھی ، میرے والد نے میرے اوپر بہت شرائط لگائی ہوئی تھیں ، کہ اگر تم یہ نہیں کروگے تو میں تمہاری مدد نہیں کرونگا وغیرہ وغیرہ ، لیکن اس کے بعد جب میں نے معلومات کیں تو3 بار3 ہی شمار ہوتی ہیں ، حالانکہ میری نیت ایک کی تھی، اور میرے والد نے مجھ سے3 طلاق پیپر پے لکھ کے دستخط کروا لیا تھا ، اب مجھے یہ بولا جارہا کہ 3 ایک ہی شمار ہونگی ، میرے پاس نہ رجوع کا ذریعہ بچا نہ کچھ اور, مجھے دھوکہ دیا گیا ، مجھے اسکا علم تھا ہی نہیں ، میں نےکافی جگہ معلومات کیں مجھے منع کر دیا گیا ، میں نے بولا میری نیت ایک کی ہی تھی اور مجھے نہیں پتہ تھا اس طلاق کے معاملے کا ، اور میرے ساتھ یہ گیم کر دیا گیا ہے ، اس کے بعد میں نےاپنی بیوی کو میسج پے لکھ کے سینڈ کیا تھا کہ میں نے خدا کو گواہ بنا کر تم سے رجوع کیا (شیزہ ) ، لیکن وہ بول رہی تھی کہ نہیں3 ہوگئیں ہیں اس کا فائدہ نہیں ہے ، لیکن میری نیت ایک کی ہی تھی ، میرے ساتھ جھوٹ بول کر دھوکہ دیا گیا ہے 3 پے دستخط کروالیا گیا ، اور اب مولانا مجھے بول رہا ہے کہ ہم سے شادی کروا دو ہم اس کو طلاق دے کر تمہارے ساتھ شادی کروا دینگے ، یہ غلط ہے , میں کبھی اس طرف نہیں جاؤنگا ، میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں ، میں پریشان ہوں نہ میری نیت تھی 3 کی نہ مجھے پتہ تھا اس سب معاملے کا ، برائے مہربانی مجھے اس کا کوئی حل بتا دیں میں پھنس گیا ہوں ۔
واضح ہو کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ایک ساتھ دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں ، خواہ یہ تینوں طلاقیں زبانی طور پر دی جائیں یا تحریری طور پر دی جائیں ، جبکہ تین طلاقیں صریح الفاظ میں زبانی یا تحریری طور پر دیتے وقت ایک طلاق کی نیت کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ، لہذا جب سائل نے والد کی جانب سے بنائے گئے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر یہ جانتے ہوئے دستخط کر دیے ہوں ، کہ یہ طلاق نامہ ہے ، اگر چہ گھر والوں کے دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کیے ہوں ، تب بھی اس سے سائل کی بیوئی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی صحیح البخاری : وقال لیث ، حدثنی نافع ، قال کان ابن عمر أِذا سئل عمن طلق ثلاثاً ، قال لو طلقت مرۃ أو مرتین فأِنّ النبی ﷺ أمرنی بھذا ، فأِن طلقھا ثلاثاً ، حرمت حتی تنکح زوجاً غیرک اھ(رقم 5264 کتاب الطلاق ط قدیمی ) ۔
و فی الفتاویٰ الھندیہ ، و ان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ وثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتٰی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا ، کذا فی الھدایہ الخ (ج 1 ص 473 کتاب الطلاق ط ماجدیہ )۔
وفی ردالمحتار ،تحت (قولہ طلقت بوصول الکتابۃ ) أی الیھا (الیٰ قولہ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج ، فأخذہ الزوج وختمہ و عنونہ و بعث بہ أِلیھا فأتاھا وقع أِن أقر الزوج أنہ کتابہ الخ (ج3 ص246 مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ط سعید )
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0