حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جسے کوئی حاجت درپیش ہو، وہ بدھ، جمعرات اور جمعہ کو روزے رکھے ، جمعہ کے دن غسل کرکے مسجد جائے اور راستے میں کچھ صدقہ دے اور نماز سے فارغ ہوکر یہ دعا پڑھے "اللھم إنی اسئلک باسمک العظیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الذی لاالہ الا ھو عالم الغیب والشھادہ ھو الرحمن الرحیم اسئلک باسمک الذی ملاء الخ " حضرت عبداللہ فرماتے تھے کہ یہ دعا جاہلوں کو نہ سکھاؤ ، ورنہ وہ اس کے ذریعے ایک دوسرے کے لئے بددعا کریں گے اور وہ قبول ہوگی ۔ ماخذ: وظائف اکابر از حافظ شفیق الاسلام-
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کیا یہ عمل درست ہے ؟ سند کےساتھ جواب عنایت فرمائیے گا۔
سوال میں ذکر کردہ دعا اور اس کی یہ مخصوص فضیلت اور طریقہ کار کا ثبوت تلاش ِ بسیار کے باوجود معتمد کتب میں نہیں مل سکا ،البتہ اگر کوئی اس مخصوص عمل اور دعا کو مسنون اور ماثور سمجھے بغیر اختیار کرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0