السلام علیکم! میرا سوال ہے کہ میری بیوی نے ایسا کام کیا کہ میں نے اسے گھر سے نکال دیا،پھر یہ کہتا رہا کہ میں نے اسے نہیں لانا،ایک دن میری ساس نے مجھے ”کال“کی اور بولی!اسے لے جاؤ، میں نے بولانہیں لے کر جانا،تو بولی اسے تین طلاق دو،میں نے بولادے دوں گا، بولی آکر دے دو،تو میں نہیں گیا،پھر ”کال“ کی اور بولی اگر اپنے باپ کے ہو تو آکر دو،کیوں نہیں دے رہے؟میں گیا،اور میں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا،تو بیٹھی تھی،میں نے نہ سلام کیا نہ کچھ پوچھا اور ساس بولی اسے دو! اور میں نے تین بار بولا”میں نے اسےطلاق دی“جب بولا اسکی طرف دیکھا نہیں اور آگیا،تو کیا یہ طلاق ہو گئی ہے؟
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق جب سائل نے اپنی بیوی کے متعلق مذکور الفاظ” میں نے اسےطلاق دی “ تین دفعہ کہہ دیئے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدّت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کماقال اللہ تعالی: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (البقرة)
وفي الهندية:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهدايةالخ(1/ 473)
وفی الدر المختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق اھ(3/ 235)
و فی الشامیة: (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اھ(الی قوله) ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. (الی قوله) لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه، اهـ(3/ 248)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0