محترم جناب مفتی صاحب ، السلام و علیکم! میرا تعلق حیدر آباد سے ہے اور آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں، میں سنی حنفی فرقے سے ہوں، میری طلاق کو تقریباً 3 سال ہونے کو ہیں، گھر میں بہت بڑا جھگڑا ہوا تھا ،آخر میں لڑکی اپنے گھر والوں کے اصرارپر واپس چلی گئی تھی، پہلے تو طلاق دینے کا میرا خود ارادہ نہیں تھا، لیکن بہنوں نے آمادہ کیا، میں نے اسٹامپ پیپر (Stamp Papar) پر وکیل سے 3 طلاق لکھوائیں اور اُس پر سائن کر کے بھیج دیا لڑکی کے گھر، میں بالکل اپنے ہوش میں تھا ، سائن کرتے وقت کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا، اب 3 سال ہو چکے ہیں، میں اور وہ لڑکی دوبارہ ایک ہونا چاہتے ہیں،دونوں نے کہیں شادی نہیں کی، ہمارے 2 بچے بھی ہیں، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں، لڑکی بضد ہے کہ میں کسی سے شادی نہیں کروں گی ، حلالہ کے طور پر، وہ کہتی ہیں کہ اہلِ حدیث کےمطابق یہ اسٹامپ پیپر پر بھلے 3 طلاق لکھی ہوئی ہو لیکن ایک ہی شمار ہوتی ہے، کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم صرف دوبارہ نکاح پڑھ کر دوبارہ ایک ہو جائیں ؟ برائے مہربانی تفصیلی فتوی عنایت فرمائیں ، اور رازداری کا خاص خیال رہے۔ شکریہ
نوٹ : ایک بڑی عمر کے قریبی عزیز نے آکر کہا ہے کہ میں شادی کرکے دوسرے دن چھوڑ دیتا ہوں، کیا مجھےیا ہمیں ان کی رائے قبول کرنے سے گناہ ہے ؟
واضح ہو کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں جیسے تجھے تین طلاق ہے یا علیحدہ علیحدہ جملوں سے دی ہوں جیسے تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، بہر صورت اس سے قرآن وسنت کی روشنی میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اس پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین عظام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے اور امت کے چاروں ائمہ امام اعظم، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے، لہذا اس سلسلہ میں کسی غیر مقلد سے تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ کے باہم اکٹھارہنے کا فتوی لینا اور اس فتوی کو جو از بنا کر آپس میں تعلقات قائم کرنا قرآن و سنت کی واضح نصوص کے خلاف اور باجماع امت حرام ہے ، لہذا سائل نے جب ہوش و حواس میں تین طلاقوں پر مشتمل منسلکہ طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کردئیے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام ِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، اورحلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام ِ عدت گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے،ایسا کرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائیگی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقد ِنکاح کرے یہ مگر وہ ِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما في صحيح البخاري : عن عائشة رضى الله عنها جائت امرأة رقاعة القرضى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقى فابت، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير فانما معه مثل هدبة الثوب، فقال اتريدين أن ترجع إلى رفاعة ؟ لا، حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسيلتك اھ (ج ٢ ص ١٢٤٣ ، باب شهادۃ المختبی، ط: البشرى)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله طلقت بوصول الكتابة ) أي اليها ( إلى قوله) ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه و عنونه وبعث به إليها فاناها وقع الخ ( ج ٣ ص 246 ط: سعید)۔
وفي الهداية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ،أو تثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها الخ (ج۲ ص ۹۲ ط: انعامية)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0