میری کمپنی ایک کنسلٹنٹ کمپنی سے 20 روپے میں کام کرواتی ہے ، مجھے ایک بندے نے کہا کہ میں یہ کام 10 روپے میں کروادونگا اس 10 روپے میں سے اتنا کمیشن آپ کو دے دونگا ، میں نے کمپنی سے 10 روپے کی منظوری لی اور اس بندے کو کام دیا ، اب اس بندے نے کام کروا کر اس 10 روپے میں سے کچھ روپے مجھے کمیشن کے طور پر دیے ، کیا یہ صحیح ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر اس کمپنی کا ملازم ہو اور اس کی بنیادی ذمہ داری بھی کمپنی کے اس طرح کے معاملات (کنٹریکٹ) وغیرہ طے کرنا ہو اور اس کام کی باقاعدہ اسے تنخواہ بھی ملتی ہو تو اس کے لئے کمپنی کے معاملات طے کرنے پر کمپنی کے علم میں لائے بغیر شخصِ مذکور سے کمیشن لینا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر معلوم کرلے۔
و فی الدرالمختار و حاشیۃ ابن عابدین: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية الخ(ج۴، ص۵۶۰، کتاب البیوع، ط۔سعید)۔
و فی الشامیۃ: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير الخ(ج۶، ص۶۳، کتاب الاجارہ، ط۔سعید)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0