ترجمہ:السلام علیکم! میرے بھائی نے اپنی بیوی کو 6۔5 مرتبہ کہا کہ” میں نے تمہیں طلاق دی “ تو کیا طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہوگئی ہے تو کیا رجوع کا کوئی طریقہ کار ہے؟
سوال میں ذکرکردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائل کے بھائی نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ”میں نے تمہیں طلاق دی “ تین سے زائد مرتبہ کہہ دیا ہو تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ سے ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیٰحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراًبعدیاپھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلے شوہر کاانتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرنا کہ زوج ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج اول کےلیےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة (البقرۃ:230)۔
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ (1/473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0