1:میں ۔۔۔۔۔۔ نے باہوش و حواس غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو تین مرتبہ ایک ہی مجلس میں طلاق دی ان الفاظ سے کہ ”میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی“ میرے والدین اس بات کے گواہ ہیں تو کیا یہ تینوں طلاقیں واقع ہوگئی یا نہیں ؟
:کیا حلالہ کرنا شریعت میں جائز ہے ؟
طلاق کے بعد عورت سے دوبارہ رجوع کرنا ہو تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟ براہِ مہربانی تحریری طور پر رہنمائی فرما دیں، عین نوازش ہوگی۔
اگر طلاق واقع ہو جائے اور مرد و عورت بغیر تجدید نکاح کے ایک ساتھ وقت گزاریں تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
واضح ہو کہ غصہ کی حالت بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کوغصہ کی حالت میں اپنے ہوش و حواس میں ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ مذکور الفاظ ”میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی“کہہ دئیے اور عورت مدخول بہا ہو تواس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِنکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنے کےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراً بعدیاپھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دےدے،یابیوی سےپہلےشوہرکاانتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنےپررضامندہو،تونئےحق مہرکےتقررکے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگاتاکہ وہ زوجِ اول کےلیےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
کما قال اللہ تعالی: وان طلقھا فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره۔الآیة (البقرة:230)
وفی صحیح البخاری: قال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتھا ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك۔الحدیث (2/ 792)
وفیہ ایضاً: عن عائشةؓ أن رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي ﷺ: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتھا كما ذاق الاول۔الحدیث(2/ 791)
وفی الھدایة: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتین فی الامة لم تحل له حتٰی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا۔اھ (2/409)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0