کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ منسلکہ طلاق نامہ میں طلاق کے بارے میں جو تحریر لکھی ہوئی ہے آیا اس سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں ؟ اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو اب آئندہ کیلئے کیا حکم ہے ؟ مسئلے کی وضاحت فرمائیں!
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابقِ اصل ہو اور شوہر مسمیٰ لیاقت علی ولد رحمت جان نے بغیر کسی جبر و اکراہ کے مذکور طلاق نامہ پر دستخط کر دیئے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پرطلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا ،اور حلالۂشرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھدایة: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة لم تحل له حتٰی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا۔اھ (2/409)
وفی الفتاویٰ الھندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة(إلی قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة۔اھ (378/1)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0