کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے کچھ گھریلو حالات کی وجہ سے اپنے شوہر مسمیٰ عالم خان ولد خلیل خان سے حق مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کیا تھا جو کہ سوال کے ساتھ منسلک ہے، اس کے بعد ہم دونوں اسٹامپ پیپر والے کے پاس گئے اور یہ منسلکہ طلاق نامہ بر بنائے خلع لکھوا کر اس پر دستخط کیے ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو اورمنسلکہ طلاق نامہ بربنائے خلع کی کاپی بھی مطابق اصل ہو اور سائلہ کے شوہر نےاز خود بلاکسی جبر و اکراہ کے منسلکہ طلاق نامہ بنوا کر اُس پر دستخط کر دیے تو اس سے سائلہ پرطلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا ،اور حلالۂ ۂشرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الفتاویٰ الھندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة(إلی قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق۔اھ (1/378)-
وفي الدر المختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة۔اھ (3/ 246)-
وفی الھدایة: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرة وثنتین فی الامة لم تحل له حتٰی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا۔اھ (2/409)-
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0