میں ایک کرایہ دار ہوں ، یہ مکان مالکِ مکان نے گذشتہ مالکِ مکان سے خریدا تھا، اب اس مکان کی بالائی منزل پر اور بھی کرائے دار آ گئے ہیں ، جن کی وجہ سے میری پریشانیاں بڑھتی گئیں ، اوپر کے بیت الختلا سے پانی نیچے ٹپکنا انتہائی تکلیف دہ ہوگیا تھا ، جس کی شکایت میں نے مسلسل مالکِ مکان سے کی ، مگر کئی ماہ کے بعد بھی نہیں ہوا تو مجبوراً میں مکان چھوڑنے پر مجبور ہوگیا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ جہاں مالکِ مکان اپنا کرایہ تو وصول کرے مگر کرایہ دار اذیت کا شکار ہو تو اس مالکِ مکان کا کرایہ لینا جائز ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مالکِ مکان کیلئے سائل کی طرف سے شکایت اور درخواست کے بعد مکان کی تعمیر و مرمت کا اہتمام کرکے سائل کی پریشانی اور مشکلات کا ازالہ کرلینا چاہیئے تھا ، تاہم اگر مالکِ مکان نے کسی وجہ سے مکان کی مرمت اور اصلاح کا اہتمام نہ کیا ہو ، لیکن اس کے باوجود بھی وہ مکان رہائش کے قابل ہوتو ایسی صورت میں سائل اس مکان میں جتنا عرصہ قیام پذیر رہا، اس عرصہ کا کرایہ سائل کے ذمہ لازم و ضروری ہوگا ، اور مالکِ مکان کےلئے وہ کرایہ وصول کرنا بھی جائز اور درست ہے ۔
کما فی الدر المختار: (وعمارة الدار) المستأجرة (وتطيينها وإصلاح الميزاب وما كان من البناء على رب الدار) وكذا كل ما يخل بالسكنى (فإن أبى صاحبها) أن يفعل (كان للمستأجر أن يخرج منها إلا أن يكون) المستأجر (استأجرها وهي كذلك وقد رآها) لرضاه بالعيب (وإصلاح بئر الماء والبالوعة والمخرج على صاحب الدار) لكن (بلا جبر عليه) لأنه لا يجبر على إصلاح ملكه (فإن فعله المستأجر فهو متبرع) وله أن يخرج إن أبى ربها اھ (ج 6، صـــ 79، ط: سعید)-
وفی شرح المجلۃ: أعمال الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر: مثلا تطهير الرحى على صاحبها، كذلك تعمير الدار وطرق الماء وإصلاح منافذه وإنشاء الأشياء التي تخل بالسكنى وسائر الأمور التي تتعلق بالبناء كلها لازمة على صاحب الدار وإن امتنع صاحبها عن اعمال هؤلاء فللمستأجر أن يخرج منها اھ (ج 1، صـــ 621، المادۃ: 529، ط: حقانیہ) -
وفیہ ایضاً :(واذا امتنع صاحبھا عن اعمال ھؤلاء فللمستأجر ان یخرج منھا) قال الطحطاوی: ای ولا اجرۃ علیہ حینئذ کما لایخفی اھ یعنی عما بقی من المدۃ، والا فعلیہ اجرۃ ما سکن کما لایخفی اھ (ج 1، صـــ 623، ط: حقانیہ) -
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0