بخدمت جناب مفتی صاحب السلام علیکم! جناب اعلیٰ موضوع: فتوی برائے طلاق ،میں ”نازیہ حسن “میرا مسئلہ یہ ہے 17 تاریخ بروز بدھ رات ایک بجے میرے شوہر سے بحث ہوتی ہے غصے میں مجھے بہت ساری باتیں سناتا ہے جس سے میری دل آزاری ہوتی ہے اور میں کہتی ہوں اتنا ذلیل نہ کرو مجھے چھوڑ دو اس نے کہا اگر تم یہی چاہتی ہو تو ٹھیک ہے اپنی فیملی کو بلاؤ آج میں کر ہی دیتا ہوں اور میں نے اپنی فیملی کو بلوایا میرے بھائی نے کال پر میرے شوہر سے بات کی ، میرے شوہر کو وہاں پر غصہ آگیا اور اس نے غصے میں مجھ سے پوچھا کہ تم کیا چاہتی ہو رہنا چاہتی ہو یا نہیں میں نے کہا اتنے تماشے میں نہیں رہ سکتی اس نے مجھے کہا کہ” میں پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں“ اور کل صبح تک تمہیں پیپر بھی مل جائیں گی اور تمہارے کپڑے بھی طلاق دینے کے بعد کال کرتا ہے اب کہتے ہے کہ میں رجوع کرنا چاہتا ہوں کیا رجوع کیا جا سکتا ہے یا طلاق ہو گئی؟ میرے شوہر کو شارٹ ٹم پر کی پرابلم ہے جس کی وجہ سے میں بہت محتاط رہتی تھی اس پر کنٹرول نہیں کر پائی لہذا آپ قران و حدیث کی روشنی میں میری رہنمائی کریں کیا رجوع کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی قسم کے غلط بیانی سے کام نہ لیا گیاہو،اس طورپر سائلہ کے شوہر نے مذکورالفاظ ”میں تمہیں طلاق دیتاہوں ،طلاق دیتاہوں ،طلاق دیتاہوں “ کہہ دیئے ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایّام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدت طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو،تونئے مہر کےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج ِاول کےلئےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآیہ (البقرۃ:230)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)۔
وفی ردالمحتار: قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه.(3/244)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0