السلام علیکم!
20 اگست 2023 کو جامع مسجد طیبہ ایل بلاک وحدت کالونی لاہور کے مؤذن قاری محمد سمیع صاحب کی روڈ ایکسیڈنٹ میں ٹانگ فیکچر ہوگئی تھی ، جسکی وجہ سے وہ مسجد میں اپنی ڈیوٹی کے فرائض ادا نہ کرسکے ، مسجد انتظامیہ نے انکے لئے فیملی رہائش جو کہ مسجد کے ساتھ متصل ہے بمع بجلی بل سہولیات فراہم کی ہوئی ہیں اور ہر ماہ انکو اجارہ بھی مسجد کے چندے سے دیا جارہا ہے، 5 جنوری 2024 کو سابقہ آپریشن کامیاب نہ ہونے پر دوبارہ آپریشن کروایا گیا اور ڈاکٹرز نے مزید ساڑھے تین ماہ بیڈ ریسٹ کا کہا ہے اسکے بعد مزید چند ماہ ٹانگ کی ورزش وغیرہ کرنے کے بعد بہتری آسکتی ہے ، جبکہ مسجد کے معاملات اور بچوں کی تعلیم میں کافی حرج لازم آرہا ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کے مطابق انکو مسجد کے چندے سے اجارہ دینا اور فیملی رہائش کی سہولیات فراہم کرنا عند الشرع درست ہے ؟ اگر عند الشرع اجارہ اور فیملی رہائش دینا درست نہیں ہے تو کیا انکو مسجد انتظامیہ فارغ کرکے متبادل مؤذن رکھ سکتے ہیں؟ تاکہ مسجد کے معاملات اور بچوں کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جاسکے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور مؤذن جب تک مسجد کی مفوضہ خدمات سر انجام دینے کی قدرت نہ رکھے اس وقت تک واقفین اور چندہ دہندگان کی اجازت کے بغیر وقف فنڈ سے اس کی معاونت کرنا درست نہیں ، البتہ اس کے ساتھ لاحق عارضہ چونکہ اختیاری فعل نہیں بلکہ من جانب اللہ ہے ، اس لئے اس مشکل گھڑی میں اس کی معاونت کرنے کے بجائے اسے فارغ کر کے اس کے لئے مزید مشکلیں پیدا کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ، لہذا محلہ کے مخیر اور صاحبِ استطاعت لوگوں کو چاہیئے کہ اس کی صحت یابی اور تندرستی تک وقف فنڈ کے بجائے نفلی عطیات وغیرہ سے ان کا تعاون کریں ، اور اس دوران مسجد کے معاملات اور بچوں کی پڑھائی وغیرہ متاثر نہ ہو ان امور کی انجام دہی کے لئے مؤذن صاحب کے توسط سے عارضی طور پر کسی دوسرے بندے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
كما في رد المحتار : تحت ( قوله و إن لم يعمل ) أى إذا تمكن من العمل، فلو سلم نفسه و لم يتمكن منه لعذر كمطر و نحوه لا أجر له الخ (مبحث الأجير الخاص، ج 6، ص 69، ط : سعيد )-
و فيه أيضا : تحت (قوله كما حقق مفتي دمشق) إنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة. و صرح الأصوليون بأن العرف يصلح مخصصا الخ (مطلب مراعاة غرض الواقفين واجبة الخ ، ج ٤ ، ص ٤٤5، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : تحت (قوله لا تجوز استنابۃ الفقيه) و في الخلاصة : أن الإمام يجوز استخلافه بلا إذن بخلاف القاضي ، و على هذا لا تكون وظيفته شاغرة و تصح النيابة ( مطلب في غيبة التي يستحق بها العزل عن الوظيفة و مالا يستحق الخ ، ج ٤ ، ص ٤٢0 ط : سعيد)-
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0