کیا یہ بات درست ہے کہ امام مالکؒ کے نزدیک متعہ جائز تھا؟
واضح ہوکہ امام مالک رحمہ اللہ کےہاں بھی متعہ حرام ہے ،لہذا ان کی طرف متعہ کے جواز کی جوبات منسوب ہے،وہ درست نہیں ۔
کما فی ردالمحتار تحت (قولہ: وبطل نکاح متعۃ ومؤقت) (الی قولہ) ثم ذکر فی الفتح ادلۃ تحریم المتعۃ وانہ کان فی حجۃ الوداع وکان تحریم تابید لاخلاف فیہ بین الائمۃ وعلماءالامصار الاّ طائفۃ من الشیعۃ ونسبۃ الجواز الی مالک کما وقع فی الھدایۃ غلط الخ (ج 3 صـ 51 کتاب النکاح فصل فی المحرمات ط: ایچ ایم سعید)۔