محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
گزارش یہ ہے کہ میری شادی 2008 میں طے پائی تھی، جس کا حق مہر 3 تولہ طلائی زیور اور مانسہرہ کے ایک گاؤں بجنہ میں ایک کمرہ کا مکان لکھا گیا تھا، اور یہ شادی 2023 تک قائم رہی اور اسی دوران شوہر نے 2015 میں چھپ کر دوسری شادی کرلی ، آخر کار 11 جون 2023 کو اپنے سگے بھائی ، اس کی اہلیہ اور اپنے بڑے بیٹے اور بڑی بیٹی کی موجودگی میں مجھے طلاق دے دی اور گھر سے فرار ہوگیا، مجھے میرا حق مہر ادا نہیں کیا جو میرے نکاح نامہ میں تحریر ہے( حق مہر 3 تولہ طلائی زیور، ایک کمرہ کا مکان ) ، آج بھی میں اسی کرائے کے مکان میں رہ رہی ہوں ، نہ مجھے بچوں کا خرچہ ملتا ہے اور نہ ہی مکان کا کرایہ اور نہ ہی مجھے تحریری طلاق نامہ دیا، لہٰذا مجھے اپنے بچوں کے خرچہ اور حق مہر کے لئے کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔
لہٰذا شرعی رو سے مجھے طلاق کا فتوٰی جاری کیا جائے، اس کے علاوہ دو سے تین بار جرگہ میں بیٹھ کر طلاق کا اظہار کرچکا ہے، اور دیگر کئی لوگوں کے سامنے طلاق کا اظہار کرچکا ہے اور خرچہ / اخراجات کی حامی بھی بھر چکا ہے، لیکن کچھ ادا نہیں کیا، اس لئے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاجہاں فتوٰی کی ضرورت ہے۔
نوٹ! شوہر نے پہلے دو بار طلاق دے کر رجوع کرلیا تھا، بعد میں یہ الفاظ کہے " میں نے تجھے پہلے دو طلاق دی تھی اور آج تیسری طلاق دے کر تجھے فارغ کرتا ہوں " ۔
دارالافتاء سے شوہر کے ساتھ رابطہ کیا گیا تھا، لیکن اس نے آنے سے انکار کیا تھا جبکہ چاروں گواہوں کو دارالافتاء بلایا گیا اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ شوہر ہمارے سامنے تین طلاق کا اقرار کرچکا ہے، اور ان کے دستخط موجود ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں نکاح و رخصتی کے بعد جب شوہر نے کچھ عرصہ قبل واضح الفاظ جیسے تجھے طلاق ہے یا میں تجھے طلاق دیتا ہوں وغیرہ کے ساتھ سائلہ کو طلاق دینے کے بعد دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا، تو ان دو طلاقوں کے واقع ہونے کے بعد رجوع کرنے سے میاں بیوی کا نکاح بحال ہوچکا تھا، لیکن آئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا، چنانچہ حالیہ واقعہ میں اس کے مذکور الفاظ " میں نے تجھے پہلے دو طلاق دی تھی اور آج تیسری طلاق دے کر فارغ کرتا ہوں " استعمال کرنے سے تیسری طلاق بھی واقع ہوچکی ہے، جس کا وہ جرگہ کے سامنے اقرار بھی کرچکا ہے، جبکہ گواہانِ ذیل نے اس کی گواہی بھی دی ہے، تو اس سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تینوں طلاقوں کی وجہ سے حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرجانے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ(البقرۃ 230)۔
و فی الھندیۃ: وان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت فیھا الخ ( کتاب الطلاق، ج 1 ص 473 ط: ماجدیۃ ) ۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0