شریعت کی اصطلاح میں مہرکسےکہتےہیں،اوریہ کیوں مقررکیاجاتاہے؟
واضح ہوکہ شریعت کی اصطلاح میں مہر ایسے مال کوکہا جاتاہے جو عقد نکاح کے وقت شوہر پر بیوی سے نفع اٹھانے کے عوض لازم ہوتاہے، چاہے زوجین کی باہمی رضامندی سے یہ مہر مقرر کیاجائے یا نفس عقد کی وجہ سے مہر مثل واجب ہوجائے، نیز اس مہر کےذریعہ نکاح وزنا میں امتیاز بھی ہوجاتاہے کہ اللہ رب العزت نے تعین مہر کے ذریعہ فطری جذبات کی تسکین کوجائز اور زنا کو حرام قرار دیاہے۔
اسی طرح مہر مقرر کرنے کی وجہ سے شوہر کے دل میں نکاح اور عورت کی عظمت بیٹھ جاتی ہے، اس لئے کہ جب شوہر اپنا قیمتی مال خرچ کرکے اسے حاصل کرتاہے تو اس عقد اور عوض کی قدر و قیمت کی وجہ سے وہ اسکی عزت بھی کرتاہے اور بلا ایسی ضرورت کہ جس کے بغیر اس کو چارہ نہ ہو مال کے نقصان کے خطرہ کی وجہ سے اس نظم و تعلق کےتوڑنے میں جرأت بھی نہیں کرسکتا، پس مہر کا مقرر کرنا رشتہ ازدواج میں ایک قسم کی پائیداری کا ذریعہ بھی ہوا، لہذا مہر کو بیوی کے سر کی قیمت سمجھ کر ادا نہ کیاجائےاور نہ ہی اس کی ادئیگی کے بعد اسے زرخرید باندی سمجھ کر اس کے ساتھ نامناسب رویہ برتا جائے، بلکہ اسے بیوی کا شرعی حق اور ایک پائیدار رشتہ کا سبب سمجھ کر ادا کرنا چاہیئے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: (وآتوا النسآء صدقتھن نحلۃ) فجعل من حقھا علیہ ان یوفیھا صداقھا (الی قولہ) ان النفقۃ لیست بدلا عن البضع فیفرق بینھما ویستحق البضع علیھا من اجلھا لانہ قد ملک البضع بعقد النکاح وبدلہ ھو المھر الخ(ج1 صـ375 باب حق الزوج علی المراۃ وحق المراۃ علی الزوج ط: سہیل اکیڈمی)۔
وفی الجامع لاحکام القرآن القرطبی: (محصنین غیر مسافحین) یحتمل وجھین: احدھما ماذکرناہ وھو الاحصان بعقد النکاح، تقدیرہ: فاطلبوا منافع البضع باموالکم علی وجہ النکاح، لاعلی وجہ السفاح، فیکون اللآیۃ علی ھذا الوجہ عموم،ویحتمل ایقال "محصنین" ای الاحصان صفۃ لھن، ومعناہ: لتزوجوھن علی شرط الحصان فیھن، والوجہ الاول اولیٰ، الخ(ج3 صـ211 سورۃ النسآء ط: دار عالم الکتب)۔
وفی ردالمحتار: اسم للمال الذی یجب فی عقد النکاح علی الزوج فی مقابلۃ البضع اما بالتسمیۃ او بالعقد الخ (ج3 صـ100-101 کتاب النکاح باب المھر ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: ولان ملک النکاح لم یشرع لعینہ بل لمقاصد لاحصول لھا الا بالدوام علی النکاح والقرار علیہ ولا یدوم الا بوجوب المھر بنفس العقد لما یجری بین الزوجین من الاسباب التی تحمل الزوج علی الطلاق من الوحشۃ والخشونۃ فلو لم یجب المھر بنفس العقد لایبالی الزوج عن الزالۃ ھذا الملک بادنی خشونۃ تحدث بینھما لانہ لایشق علیہ ازالتہ لما لم یخف لزوم المھر فلاتحصل المقاصد المطلوبۃ من النکاح ولان مصالح النکاح ومقاصدہ لاتحصل الا بالموفقۃ ولاتحصل الموفقۃ الا اذا کانت المراۃ عزیزۃ مکرمۃ عند الزوج ولاعزۃ الاّ بانسداد طریق الوصول الیھا الا بمال لہ خطر عندہ لان ماضاق طریق اصابتہ یعز فی الاعین فیعزبہ امساکہ الخ ( ج2 صـ275 کتاب النکاح فصل فی المھر ط: ایچ ایم سعید)۔