نفل طواف شروع کرنے کے بعد ادھورا چھوڑنے سے وہ طواف بھی نماز کی طرح واجب ہوجا تا ہے یا نہیں؟ دوسرا مسئلہ طواف کے لیے وضو کا حکم ؟
واضح ہو کہ دیگر نفلی عبادات کی طرح نفلی طواف بھی شروع کرلینے کے بعد اسے ادھورا چھوڑنا درست نہیں،بلکہ اسے پورا کرنا شرعاً لازم ہوجاتا ہے،جبکہ طواف جیسی عبادات (اگرچہ نفلی کیوں نہ ہو)کی ادائیگی کے لئے بھی باوضو ہونا لازم وضروری ہے،اگر کوئی شخص وضو کیے بغیر طواف کرلے تو اس پر طواف کے ہر ایک چکر کے بدلے آدھا صاع (پونے دو سیر)گندم یا اس کی قیمت مسکین کو دینا لازم ہوگا،البتہ ایسا شخص اگر بعد میں باوضو ہوکر اسی طواف کا اعادہ کرلے،تو یہ صدقہ دینا اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائیگا۔
کما فی رد المحتار تحت (قوله ولزم نفل إلخ) أي لزم المضي فيه، حتى إذا أفسده لزم قضاؤه أي قضاء ركعتين، وإن نوى أكثر على ما يأتي، ثم هذا غير خاص بالصلاة وإن كان المقام لها. قال في شرح المنية: اعلم أن الشروع في نفل العبادة التي تلزم بالنذر ويتوقف ابتداؤها على ما بعده في الصحة سبب لوجوب إتمامه وقضائه إن فسد عندنا وعند مالك، وهو قول أبي بكر الصديق وابن عباس وكثير من الصحابة والتابعين كالحسن البصري ومكحول والنخعي وغيرهم، فخرج الوضوء وسجدة التلاوة وعيادة المريض وسفر الغزو ونحوها مما لا يجب بالنذر لكونه غير مقصود لذاته، وخرج ما لا يتوقف ابتداؤه على ما بعده في الصحة نحو الصدقة والقراءة، وكذا الاعتكاف على قول محمد، ودخل فيه الصلاة والصوم والحج والعمرة والطواف والاعتكاف على قولهما. اهـ.(ج2 ص29 کتاب الصلوۃ،باب الوتر والنوافل ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً تحت (قوله لوجوبه بالشروع) أشار إلى أن الحكم كذلك في كل طواف هو تطوع، فيجب الدم لو طافه جنبا، والصدقة لو محدثا كما في الشرنبلالية عن الزيلعي الخ (ج2 ص550 کتاب الحج،باب الجنایات فی الحج ط: سعید)۔
وفی غنیۃ الناسک فی بغیۃ المناسک: فلو طاف للقدوم کلہ أو اکثرہ جنباً فعلیہ دم ولومحدثا فصدقۃ لکل شوط نصف صاع من بر الا ان یبلغ ذلک دماً فینقص منہ ما شاء ویعیدہ طاھرا وجوبا فی الجنابۃ وندباً فی الحدث فان اعادہ سقط عنہ الجزاء ولو ترکہ کلہ فلا شیئ علیہ وقد أساء بخلاف مالو شرع فیہ ثم ترک اکثرہ فعلیہ دم او اقلہ فصدقۃ لانہ کالصدر لوجوبہ بالشروع،وحکم کل طواف تطوع کحکم طواف القدوم وغیرہ الخ (ص 428 باب الجنایات،المطلب الثالث ط: المصباح)۔