محترم شیخ،مجھے امید ہے کہ یہ ای میل آپ کو اچھی صحت اور اعلیٰ روحوں میں پائے گا، میں ایک انتہائی اہم معاملے کے بارے میں آپ محترم سےرہنمائی اور وضاحت طلب کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں، مجھے آپ کچھ پس منظر کی معلومات فراہم کرنے کی اجازت دیں، میں اور میری بیوی دونوں سعودی عرب میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی , تاہم، پچھلے سال سے، ہم اس کی ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے الگ رہ رہے ہیں، دسمبر 2023 کو، پیغامات کے تبادلے کے دوران، میں نے اظہار کیا، "راجی، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" اس کے بعد، 25 دسمبر 2023کو، ایک اور گرما گرم گفتگو کے درمیان، میں نے متعدد صوتی اور ٹیکسٹ پیغامات بھیجے جس میں لکھا تھا، "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں"اس صورت حال کے حل کے لئے ہم نے ایک معزز قاضی سے مشورہ کیا جنہوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ حنبلی فقہ کے مطابق صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے، تاہم مخصوص طلاق کے حوالے سے کچھ ابہام اور غیر یقینی صورتحال باقی ہے۔شیخ صاحب، میں آپ کی رہنمائی اور مہارت سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ مذکورہ بالا حالات کی روشنی میں طلاق کی کونسی صورت واقع ہوئی ہے اس کا تعین کریں ، آپ کی وضاحت دونوں فریقین کے لیے واضح اور ذہنی سکون لانے میں مدد کرے گی ،میں آپ کے قابل قدر جواب کا بے تابی سے انتظار کرتا ہوں اور اس معاملے کو حل کرنے میں آپ کے وقت اور مہارت کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کی مسلسل مدد اور رہنمائی کے لئے ڈھیروں برکتیں عطا فرمائے۔
سائل نے جب مختلف اوقات میں تین سے زائد مرتبہ صریح الفاظ میں طلاق دیدی ہے تو اس سے سائل کی بیوی پر ابتدائی تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اور بعد کی طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئیں ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا میاں و بیوی پر فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، نیز عورت ایامِ عدت گزر جانے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
و فی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ) ۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0