نکاح کے اگلے دن کیا ہم ولیمہ کر سکتے ہیں ؟ تاکہ ایک ہی دن میں ہم اپنی تقریبات کو مکمل کر دیں ، کیا یہ صحیح طریقہ ہے ؟ اور کیا شادی کی رات ہمبستری کرنا ضروری ہے کہ کچھ لوگ بولتے ہیں ، پھر ولیمہ حلال نہیں ہوتا ؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں!
بہتر اور افضل طریقہ تو یہی ہے کہ نکا ح کے بعد جب لڑکی رخصت ہو کر لڑکے کے گھرپہنچ جائے تو شبِ زفاف کے بعد اگلے ایک یا دو دنوں کے اندر ولیمہ کی دعوت کر لی جائے ، یہی مسنون طریقہ بھی ہے، لہذا سائل کو بھی اسی طرح کرنا چاہیئے، تا ہم کسی مجبوری کے تحت اگر رخصتی سے قبل ہی ولیمہ کی دعوت کرلی جائے تو اس سے بھی سنت پوری ہو جائے گی ، جبکہ ولیمہ کے لئے شوہر کاہمبستری کرنا شرعاً ضروری نہیں ، لہذا سوال میں ذکر کردہ لوگوں کا ہمبستری کے بغیر ولیمہ کو حلال قرارنہ دینا درست نہیں، بلکہ جہالت اور دینی احکام سے لا علمی پر مبنی ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في مسند أبي يعلى الموصلي : عن أنس رضي الله عنه أنه قال : تزوج النبي ﷺ صفية و جعل عتقها صداقها، و جعل الوليمة ثلاثة أيام، و بسط نطعا جاءت به أم سليم، وألقى عليه أقطا و تمرا، و أطعم الناس ثلاثة أيام ( مسند أنس بن مالك، ج 6، ص 446، ط : دار المأمون للتراث ، دمشق)-
و في عمدة القاري : و قد اختلف السلف في وقتها حل عند العقد أو عقيبه؟ أو عند الدخول أو عقيبه ؟ أو موسع من ابتداء العقد إلى انتهاء الدخول ؟ على أقوال . قال النووى : اختلفوا فقال عياض : إن الأصح عند المالكية استحبابه بعد الدخول و عن جماعة منهم أنها عند العقد و عند ابن حبيب عند العقد و بعد الدخول و قال في موضع آخر يجوز قبل الدخول و بعده و قال الماوردي : عند الدخول و حديث أنس : فأصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم عروسا بزينب فدعي القوم ، صريح أنها بعد الدخول و استحب بعض المالكية أن تكون عند البناء و يقع الدخول عقيبها و عليه عمل الناس الخ ( باب الصفرة المتزوج، ج ١٤ ، ص ١١2 ط : إمدادية ، ملتان )-
و في إعلاء السنن : و المنقول من فعل النبي صلى الله عليه وسلم أنها بعد الدخول ، كأنه يشير إلى قصة زينب بنت الجحش و قد ترجم عليه البيهقى بعد الدخول و حديث أنس في هذا الباب صريح في أنها الوليمة بعد الدخول الخ( باب استحباب الوليمة ، ج 11، ص 12، ط : إدارة القرآن )-