محترم شیخ، امید ہے آپ یہ ای میل بخیر و عافیت وصول کر رہے ہیں. میں ایک حالیہ واقعہ کے بارے میں آپ سے مشورہ اور وضاحت حاصل کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں جو میری بیوی اور میرے درمیان پیش آیا،جیسا کہ آپ کو معلوم ہو گا کہ میری بیوی گزشتہ ایک سال سے ذہنی بیماری سے لڑ رہی ہے ،اور اس کے نتیجے میں ہم الگ الگ رہ رہے ہیں، تاہم ایک حالیہ گفتگو کے دوران میں نے زور دینے کے لیے اس جملے کو دہراتے ہوئےتین بار 'میں آپ کو طلاق دیتا ہوں' کے الفاظ کہے، میری سمجھ میں بچپن سے میرے علم کی بنیاد پر اسے ایک طلاق (رجعی) سمجھا جاتا ہے، تاہم میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ تشریح اسلامی قانون کے مطابق صحیح ہے، بالخصوص سعودی عرب میں میں نے ایک مقامی قاضی سے مشورہ کیا ہے جو اسے ایک طلاق (رجعی) سمجھتے تھے، لیکن میں اسلامی قانون کی نظر میں طلاق کے صحیح ہونے کے بارے میں قطعی طور پر یقین کرنا چاہتا ہوں۔ میں واقعی اس معاملے میں آپ کی رہنمائی اور حکمت کی تعریف کرتا ہوں، آپ کی رہنمائی وضاحت لانے اور ہمارے خدشات کو کم کرنے میں مدد کرے گی، آپ کے وقت اور غور کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔
واضح ہو کہ تین طلاق خواہ ایک جملہ سے دی ہو ں جیسے تجھے تین طلاق ہے ، یا علیحدہ علیحدہ جملوں سے دی ہو ں جیسے تمہیں طلاق دیتا ہوں ،تمہیں طلاق دیتا ہوں ، تمہیں طلاق دیتاہوں ،بہر صورت اس سے قرآن سنت ک روشنی کی میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ،لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کو تین دفعہ مذکور الفاظ کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کما فی الدرالمختار: كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين(کتاب الطلاق ج3 ص293 ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية(فصل فیماتحل بہ المطلقۃومایتصل بہ)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0