کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن بھولنے کے متعلق سخت وعیدات آئی ہیں، حالانکہ اسکول و کالج کے اسٹوڈنٹس وغیرہ قرآن کو بھول چکے ہوتے ہیں، تو کیا یہ سب لوگ اس میں داخل ہیں؟ اگر نہیں تو اس کا محمل کیا ہے؟
واضح ہو کہ قرآن کریم بھول جانے کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اگرچہ عند الاحناف ایسے لوگوں سے متعلق ہیں جو اس طور پر قرآن ِ کریم بھول گئے ہوں کہ دیکھ کر بھی قرآن مجید نہ پڑھ پاتے ہوں، تاہم اپنی غفلت ، سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے کلام پاک حفظ کرنے کے بعد بھول جانا بہت بڑے اجر سےمحرومی اور عظیم نعمت کی نا شکری کا باعث ہے، اس لئے ایسے طلبہ کو دیگر مصروفیات کے ساتھ کچھ وقت نکال کر تھوڑا تھوڑا کر کے یاد کرتے رہنا چاہیئے، تاکہ اس نعمتِ عظمیٰ کی محرومی سے بچا جاسکے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم» اھ ( کتاب فضائل القرآن ص 191 ط: قدیمی )۔
وفی الھندیۃ: قراءة القرآن في المصحف أولى من القراءة عن ظهر القلب، إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسيه فإنه يأثم، وتفسير النسيان أن لا يمكنه القراءة من المصحف الخ ( کتاب الکراھیۃ ج 5 ص 317 ط: ماجدیۃ )۔