السلام علیکم ! کیا بیماری جیسے کہ نفسیاتی امراض ماں یا باپ سے اولاد میں منتقل ہوسکتے ہیں؟اسلام کیا کہتاہےاس بارے میں؟میرے تقریباً پورے ددھیال اور مجھ میں نفسیاتی مسائل ہیں،جبکہ مفتی صاحب اور ایک عالم نے کہا کہ نفسیاتی امراض ماں یا باپ سے اولاد میں منتقل نہیں ہوتے۔
بیماری لگانے والی اور اسے منتقل کرنے والی ذات، تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے،البتہ بعض بیماریوں میں قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہوتی ہےکہ اس بیماری کے پائے جانے کے وقت دوسروں کی طرف بھی وہ بیماری منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے،جیسے آگ کی خاصیت جلانے کی ہے،لیکن ان بیماریوں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا درست نہیں کہ یہ بیماریاں متعدی ہونے میں فی نفسہ مؤثر ہیں،البتہ اسباب کے درجہ میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مشیتِ الہی سے کسی ایک بیماری کے اسباب وجراثیم جب متعدی ہوکر دوسرے کی طرف منتقل ہوجائیں، تو یہ بیماری دوسرے کو بھی لگ سکتی ہے،لیکن یہ صورت بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ معلق ہوگی،اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہ بیماری منتقل ہوگی،وگرنہ اسباب کے ہوتے ہوئے بھی یہ بیماری متعدی نہ ہوگی،لہذا سائل کا یہ اعتقاد رکھنا کہ نفسیاتی بیماری خاندان میں ایک دوسرے کی طرف یقینی طور پر منتقل ہوتی ہے،درست نہیں۔
کما فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (وعنه) : أي عن أبي هريرة (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لا عدوى) : بفتح فسكون ففتح. وفي القاموس: إنه الفساد، وقال التوربشتي: العدوى هنا مجاوزة العلة من صاحبها إلى غيره، يقال: أعدى فلان فلانا من خلقه، أو من غرته. وذلك على ما يذهب إليه المتطببة في علل سبع: الجذام، والجرب، والجدري، والحصبة، والبخر، والرمد، والأمراض الوبائية. وقد اختلف العلماء في التأويل فمنهم من يقول: المراد منه نفي ذلك وإبطاله على ما يدل عليه ظاهر الحديث والقرائن المنسوقة على العدوى، وهم الأكثرون. ومنهم من يرى أنه لم يرد إبطالها، فقد قال - صلى الله عليه وسلم: " «فر من المجذوم فرارك من الأسد» ". وقال: " «لا يوردن ذو عاهة على مصح» " وإنما أراد بذلك نفي ما كان يعتقده أصحاب الطبيعة، فإنهم كانوا يرون العلل المعدية مؤثرة لا محالة، فأعلمهم بقوله هذا أن ليس الأمر على ما يتوهمون، بل هو متعلق بالمشيئة إن شاء كان، وإن لم يشأ لم يكن، ويشير إلى هذا المعنى قوله: " «فمن أعدى الأول» ". أي: إن كنتم ترون أن السبب في ذلك العدوى لا غير، فمن أعدى الأول؟ الخ (ج8 ص342/343 کتاب الطب والرقی ط: حقانیۃ)۔