السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! امید ہےکہ آپ خیروعافیت سے ہوں گے، مفتی صاحب ! ایک مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا کہ میں پوسٹ آفس میں نوکری کرتا ہوں، وہاں ہر ایک ملازم کے لیے الگ الگ کام ہے اور آفس ٹائم 9 سے 5 بجے تک کا ہے اور میں اپنا کام مکمل کرکے ٹائم سے پہلے چلے جاتا ہوں، اگر نہیں جاؤں تو ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ بالکل فارغ بیٹھنا پڑتا ہے ،اس کی وجہ سے آفس والے ان لوگوں کا کام دیتے ہیں جو جلدی چلے جاتے ہیں، تو آیا شریعت کی رو سے میرا اپنا پورا کام مکمل کرکے چلے جانا صحیح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو اس کی کیا صورت نکلے گی؟
واضح ہو کہ ملازم کے لئے اپنی ڈیوٹی کا مقررہ وقت پورا کرنا لازم و ضروری ہے، وقتِ مقررہ سے پہلے جانا جائز نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا دورانِ ڈیوٹی اپنا کام مکمل کر کے وقتِ مقررہ سے پہلے جانا(چاہے اس نےاپنےذمہ کاکام وقت سےپہلےمکمل کرلیا)ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے، لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ اپنی کوتاہی اور خیانت پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ ایسا کرنے سے اجتناب کرے، تاہم اگر متعلقہ مجاز افسر سے کام مکمل کرنے کے بعد گھر جانے کی باقاعدہ اجازت لے لی جائے تو اجازت ملنے کے بعد مقررہ کام پورا کرکے گھر جانے کی گنجائش ہوگی، ورنہ نہیں۔
کما فی الدر المختار: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل الخ ( ج 6 ص 70 ط: سعید )۔
وفی الھندیۃ: وفي فتاوى الفضلي - رحمه الله تعالى -: إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء الخ ( ج 4 ص 416 ط: ماجدیہ )۔
وفی شرح المجلۃ: الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة. الخ ( ج 1 ص 458 )۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0