،کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بہو اپنے میکہ حیدر آباد گئی تھی ، دس دن وہاں رہی ، وہاں سے جب کراچی آئی تو دو دن بہن کے گھر رہی، پھر اپنی بھابھی کے ساتھ ہاسٹل گئی، اور رات کو گھر آئی تو میں نے کہا کہ آپ کو کہابھی تھا کہ جلدی آئیے گا، پھر بھی آپ دیر سے آئی ، سیدھا اپنے گھر آجاتی، اس رات پھر لڑائی ہوئی، اور میری بہو برقعہ لیکر رات ساڑھے دس بجے گھر سے نکل گئی ، میرا بیٹا شپ پر کام کرتا ہے، تو میری بیٹی نے ان کو میسج کیا کہ بھائی امی اور بھابھی کے درمیان لڑائی ہوئی ، اور بھابھی گھر سے نکل گئی ہے ، معلوم کرو کہ کہاں پر ہے ، اس بات پر میرے بیٹے کو غصہ آیا اور اس نے میسج میں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ لکھ کر بھیج دیے ہیں " زندگی میری خراب کردی ہے ، پاگل کردیا ہے ، طلاق طلاق طلاق " بس اب خوش ہو ، بولو امی کو ، ویسے بھی میری پسند تم لوگوں کو اچھی نہیں لگتی ، اب خوش ہو ، جان چھوٹ گئی حیدر آبادوالی سے ،اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ اور آئندہ ان کے لئے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ تحریری طور پر بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، چنانچہ سائل کا بیان اگر واقعۃً درست او رمبنی برحقیقت ہو اور سائل کے بیٹے نے مذکور الفاظ ( طلاق ،طلاق ،طلاق ) میسج پر لکھ کر بھیجے ہوں ،تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها(الی قولہ) ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابةالخ ( 3/246 مطلب فی الطلاق بالکتابۃط سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ ( 3/187 فصل وأماحکم البائن ط سعید)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0