السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
محترم علماءِ کرام !میری شادی کو آٹھ سال ہوگئے ہیں ، میرے چار بچے ہیں ، بچے ددھیال کے پاس ہیں ، چھوٹا بچہ ایک سال کا ہےاور پرورش کا کوئی انتظام نہیں ، کسی ناچاقی کی بناء پر میرے شوہر نے کہہ دیا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میری طرف سے تم آزاد ہو، جاؤ تم آزاد ہو" اور یہ الفاظ کہنے کے بعد میں نے عدت بھی گزار لی لیکن شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا، اب ہم دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ دوبارہ رجوع کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟
نوٹ: شوہر نے جب مجھے طلاق دی تھی تو میرے بھائی مجھے لینے آئے تو میں بچوں کو ددھیال چھوڑ کر میکے آگئی ، اور مذکورہ طلاق کو نو ماہ ہوگئے ہیں ، اس میں نو ماہ سے شوہر سے الگ ہوں ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے مذکور جملہ " میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میری طرف سے تم آزاد ہو، جاؤ تم آزاد ہو" کہا ہو تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ ِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ِثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تا کہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے , یہ مکروہِ تحریمی ہے ،اور اس پر حدیث میں وعید یں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله حرام) من حرم الشيء بالضم حراما امتنع (الی قولہ) فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت (باب الکنایات، ج 3، ص299، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة الخ (فصل فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ، ج 1،ص 379، ط: ماجدیہ)۔
وفیہ ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحا و یدخل بھا تم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ )۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0