میرا نام ماجد ہے، میں ایک میڈیکل سٹور میں کیشئیر ہوں، میرا کام یہ ہے کہ ہم میڈیسن کو فروخت کرکے رات کو حساب کتاب مالک کے حوالے کرتے ہیں ،بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز جس کی کل قیمت 15روپے ہوتی ہے اور ہم گاہک سے 20روپے لیتے ہیں ، اب ہم نے گاہک سے 5 روپے زیادہ لیے ہیں، اب میں نے جو 5 روپے زیادہ لیے ہے کیا یہ میں اپنی جیب میں رکھ سکتا ہوں یا مالک کے حساب میں مجھے رکھنے ہو نگے،کیونکہ میں نے5روپے زیادہ لیے ہیں اور مالک کے حساب میں یہ قیمت 15 روپے ہے، اگر یہ 5روپے میں اپنی جیب میں رکھ لوں تو یہ 5 روپے چوری کے زمرے میں تو نہیں آئینگے؟
سائل کے لئے میڈیسن وغیرہ کو اسکی مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ رقم مالک کے علم میں لائے بغیر اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ، بلکہ وہ اضافی رقم بھی مالک کے حوالے کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کما فی الصحیح للبخاری: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان» (باب علامة المنافق، ج1،ص10،ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی الفقہ الحنفی: الوکیل اذا باع ان یکون امیناً فیما یقبضہ من الثمن الخ (ج2، ص134، ط؛وحیدی کتب خانہ)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0