ہماری کنسلٹنسی فرم ہے، جوفنڈ ریزنگ کا کام بھی کرتی ہے، کیا ہم کسی جماعت کے لئے یا کسی ادارے کے لئے اس کو زکوۃ صدقہ یا ڈونیشن کی مد میں جو فنڈ ریزنگ کر رہے ہیں ،اس کے اوپر اپنے سروس چارجز 10 پرسنٹ لے سکتے ہیں ؟ اس کمپنی سے ظاہری بات ہے وہ کمپنی جس کے لئے ہم فنڈ ریزنگ کر رہے ہیں، اس کو اگر ہم 10 لاکھ روپے لا کر دیتے ہیں اور اس میں سے ہمیں 10 پرسنٹ کمیشن جو لینا ہے وہ اسی اماؤنٹ میں سے دے رہا ہوگا تو ہمارے لئے ہماری سروس کےمقابلے میں یہ پیسے لینا جائز ہے؟
واضح ہو کہ غیر ملازم کے لئے کسی ادارہ میں چندہ وغیرہ جمع کرنے پر فیصدی اعتبار سے کمیشن طے کرنا درست نہیں، بلکہ اس کام پر متعین رقم بطورِ اجرت ان سے مقرر کرنی چاہیے ، چنانچہ سائل اگر کسی ادارے کا ملازم نہ ہو اور اس ادارے کے لئے فنڈز جمع کرتا ہو تو جمع کردہ فنڈز کا دس یا بیس فیصد وغیرہ طے کرنا درست نہیں، بلکہ اس کام پر باقاعدہ کوئی متعین رقم بطورِ اجرت مقرر کی جائے، چنانچہ فنڈز جمع کرانے کے بعد اگر مذکور ادارہ اسی رقم سے اجرت دے تو یہ بھی درست ہے۔
کما فی الھندیۃ: ومنها أن تكون الأجرة معلومة. ومنها أن لا تكون الأجرة منفعة هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة. الخ ( کتاب الاجارۃ ج 4 ص 411 ط: ماجدیہ )۔
وفی الدر المختار: (ولو) (دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه - صلى الله عليه وسلم - عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز الخ ( کتاب الاجارۃ ج 6 ص 56 ط: سعید )۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0