السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ! گزارش ہے کہ ہماری محسود برادری میں جب کسی عورت کو خدا نہ خواستہ طلاق دی جاتی ہے ،تو اس کو تین پتھر کے نام سے طلاق دیتے ہیں ، اور تین چھوٹے چھوٹے پتھروں کو کسی تھیلی وغیرہ میں باندھ کر عورت کے گھر بھجوا دیتے ہیں ،کیا اس قسم کی طلاق دینا جائز ہے اور کیا یہ گناہ کے زمرے میں بھی آتا ہے؟ شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں۔ جزاك الله!
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کے لئے صریح یا کنایہ الفاظِ طلاق کہنا یا لکھنا ضروری ہے، الفاظِ طلاق کہے یا لکھے بغیر محض پتھر دینے یا بھجوانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر الفاظِ طلاق استعمال نہ کرے ،تو محض تین پتھر بھجوانے سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی، بلکہ وہ عورت اپنے خاوند کے نکاح میں ہی رہے گی، لہٰذا اس عورت کے لئے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي. وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره الخ( رکن الطلاق ج 3 ص 230 ط: سعید)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0