السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن اور بہنوئی کے درمیان کچھ ناچاقی چل رہی تھی، اس نے وائس میسج پر میری بہن کو یہ الفاظ بولے ہیں کہ "تم طلاق چاہتی ہونا ؟ تو پھر یہ لو، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ، اب وہ ہمیں مختلف علماء کے بیانات بھیج رہے ہیں کہ ایک طلاق ہوئی ہے آپ رہنمائی فرمائیں کہ رجوع کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟
سائل کا بیان واقعۃً اگر درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو، اس طور پر کہ سائل کے بہنوئی نے سائل کی بہن کو وائس میسج کے ذریعے مذکور الفاظ " تم طلاق چاہتی ہونا ؟ تو پھر یہ لو، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں، کہہ دیے ہوں تو اس سے سائل کی بہن پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسرے جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فَإنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
وکما فی اعلاء السنن: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ ثلاث جدھن جد وھزلھن جد، النکاح والطلاق والرجعۃ (کتاب الطلاق ج 11 صـ 216 ط: دار الکتب العلمیۃ)
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)
و فی الدر المختار: (فروع (کرر لفظ الطلاق وقع الکل، وإن نوی التأکید دین الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 293 ط: سعید)
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0