السلام علیکم
جناب میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں 3 طلاق دی ہیں اور طلاق کہ پیپر پر دستخط کردیے ہیں تو کیا میری طلاق ہو گئی ہے؟
سائل نے اگر تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کر دیے ہوں یا زبانی تین طلاقیں دے دی ہوں بہر صورت سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ طلقت بوصول الکتابۃ ) أی الیھا ( الی قولہ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاہ و قع الخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 246 ، ط : سعید ) ۔
و فیہ ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0