محترم مفتی صاحب ! ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک اسکول پر ٹرانسپورٹ چلاتے ہیں ، اس پر ہم نے گاڑیاں ہائر کری ہوئی ہیں ، ان ڈرائیورز کو گاڑی مالکان مہینے کی بندھی ہوئی رقم دیتے ہیں ، ایسے تو پورے سال صحیح رہتا ہے ، لیکن نیوسیکشن میں بہت بچے اتر جاتے ہیں ، خاص طور پر مارچ اپریل میں دو لاکھ کے بچے اتر جاتے ہیں، ڈرائیوروں سے جو طے رقم ہوتی ہے وہ انکو ادا کرنی ہوتی ہے ، جس سے ہم قرضے میں آجاتے ہیں ، براہِ مہربانی اس کا کوئی دوسرا نعم البدل بتائیں ، ہم سوچ رہے ہیں کہ اب ہم پرسنٹیج پر کام کرنا چاہتے ہیں ، تاکہ جو بچہ اترے اس میں ڈرائیور کا حصہ بھی کم ہو جائے گا اور ہمارا پرسنٹیج بھی کم ہوگا ، جو بچہ اتر جائے گا کیا یہ صحیح ہے ؟ اس کا کوئی راستہ نکالیں ، ہم ہر سال کافی قرضے میں آجاتے ہیں ۔
معاہدے کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ مثال کے طور پر روٹ کی رقم مخصوص ہوتی ہے ، فیس آئے یا نہ آئے اگر فیس بھر جاتی ہے تو ڈرائیور حضرات کو جو رقم فکس ہوتی ہے وہ دینی ہوتی ہے ، لیکن جب نئے سیکشن میں جوکہ اپریل اور مئی میں ہوتا ہے ، ان دو مہینوں میں بچے بہت سارے وین سے اتر جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہمیں وہی رقم دینی پڑتی ہے ، جو وین مالکان سے طے ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے ہم ان مہینوں میں بہت زیادہ قرضے میں آجاتے ہیں اور ڈرائیور حضرات سے بھی بات خراب ہوتی ہے ، اگر ہم پرسنٹیج پر آجائیں تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ جس سے نہ ڈرائیور اور نہ ہی ہمیں نقصان ہو ، رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ ٹرانسپوٹرز اور اسکول انتظامیہ کے درمیان اجارہ کا معاہدہ ہوتا ہے ، جس میں فقہاء ِکرام نے تصریح فرمائی ہے کہ مدتِ اجا رہ مقرر ہو جانے اور اجیر خاص کا خود کو مستاجر کے حوالہ کر دینے سے وہ پوری اجرت کا مستحق ہو جاتا ہے ، لہذا ادارے والے وین مالکان کے ساتھ جب سالانہ معاہدہ کرتے ہیں تو اسکول انتظامیہ کے ذمہ معاہدہ کے مطابق پوری اجرت کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے ، خواہ بچے تعداد میں کم ہوں یا زیادہ ، اس لئے وین مالکان اپریل ، مئی کے مہینہ کی بھی پوری اجرت کے مستحق ہونگے ، البتہ اسکول انتظامیہ اس نقصان سے بچنے کےلئے یہ طریقہ اختیار کر سکتی ہے کہ مذکور طریقہ پر معاہدہ کرنے کے بجائے گاڑی کے مالکان کے ساتھ فی بچہ کے حساب سے کرایہ داری کا معاملہ کرلے کہ ڈرائیور اس روٹ پر جتنے بچے لے جائیں گے انہیں فی بچہ ماہانہ اتنا کرایہ دیا جائے گا ، جس سے بچوں کی تعداد کم ہونے کی صورت میں نقصان سے حفاظت ہو سکتی ہے ۔
كما في المحيط البرهاني : والأجير الخاص : من يستحق الأجر بتسليم النفس. وبمضي المدة، ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر ( الفصل الثامن والعشرون: في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك، ج 7، ص 586 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و في الدر المختار : (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى (كتاب الإجارة ، ج 6 ، ص 69، ط : سعيد)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0