السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا ایک ضروری سوال ہے کہ میرے والدین مجھ پر بہت سخت ہیں، وہ ہمیشہ مجھے برا بھلا کہتے ہیں،25 سال سے مجھے مسلسل کہا جارہا ہے، کہ میں ایک بدصورت انسان ہوں، شادی کرنے پر مجھے باہر پھینک دیا جائیگا، میں اپنے خاندان (والد اور بھائیوں) کو جہنم میں لےجاؤنگا، میں خاندان کے لئے لعنت ہوں وغیرہ، میں ایک ترقی پذیر ملک میں رہتا ہوں، اور سوچتا ہوں کہ اگر مجھے کسی ترقی یافتہ ملک میں نوکری مل جائےتو میرے والدین خوش ہوں گے، کہ میں اچھے کام کے لئے گیا ہوں، اور میں ان سے دور زیادہ بہتر زندگی گزارونگا، ان کی منفی باتیں سننا نہ پڑےگی، حال ہی میں مجھے ترقی یافتہ مسلم ملک سے نوکری کی پیشکش ہوئی ہے، اور میں اسے لینا چاہتا ہوں، لیکن میرے والدین کہہ رہے ہیں، کہ محرم کے بغیر(اکیلا) رہنا گناہ ہے ، آپ کا فتویٰ ان کی مدد کرسکتا ہے کہ وہ سمجھیں کہ یہ جائز ہے۔
واضح ہو کہ شریعت میں محرم کے بغیر سفر کرنے کی ممانعت عورت کے لئے ہے نہ کہ مرد کے لئے، البتہ حلال روزگار اور کسب معاش کے لئے کوئی بھی جائز ذریعہ اختیار کرنا یاکسی بھی اسلامی ملک کا سفر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، لہذا سائل کے لئے والدین کی اجازت سے کسی اسلامی ملک میں ملازمت کے لئے جانا جائز اور درست ہے، تاہم دوران ملازمت شرعی احکامات کی پابندی کرنا اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنا سائل کے ذمہ لازم اور ضروری ہوگا، جبکہ سائل نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے وہ اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو تو سائل کے والدین کا سائل کو بدصورتی کے طعنے دیکر اسے مکمل طور پر نظر انداز کرنا اور اس کے ساتھ برا سلوک کرنا شرعاً جائز نہیں، تاہم اس کے باوجود بھی سائل کے لئے والدین سے ادب واحترام سے پیش آنا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا لازم اور ضروری ہے۔
قال اللہ تعالی: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (سورۃ بنی اسرائیل آیۃ 23)۔
وفی الجامع لاحکام القرآن: وابتغوا من فضل اللہ أی من رزقہ الخ (ج9 ص96 مکتبہ حقانیہ)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وقال محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه و ماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة.الخ(ج5 ص365 الباب السادس والعشرون فی الرجل ط ماجدیہ)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0