میرے شوہر نے مجھے 8 مئی 2024 کی صبح 11 بجے کے قریب تین بار کہا " میں تجھے طلاق دیتا ہوں، کیا یہ طلاق ہوجائے گی؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہرنے سائلہ کو تین بار مذکور الفاظ" میں تجھے طلاق دیتا ہوں" کہہ دیے ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ سائلہ ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج الخ (ج1 صـ355 کتاب الطلاق الباب الثانی الفصل الاول ط: دارالفکر)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ (ج3 صـ187 کتاب الطلاق ط: ایچ ایم سعید)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0