السلام علیکم مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ مدینۃ المنورۃ کے ایک سکول میں اگلے سمسٹر کے لئے انگریزی زبان کا ادب پڑھانے کے لئے اسامی خالی ہے، اب یہ کلاس 10-11 کے طلباء کے لئے ہے، مجھے شیکسپیئر اور اس کے کاموں کے متن پڑھانے کی ضرورت ہوگی، اب جہاں تک میں جانتا ہوں انگریزی ادب میں غیر مذہبی ہونے کے ساتھ ثقافتی مسائل بھی ہوتے ہیں جیسے رومانس، محبت، عجیب فلسفے، بعض اوقات عیسائی عناصر وغیرہ ،اسی طرح انگریزی ادب زیادہ تر غیر اسلامی ہے، تو کیا انگریزی ادب پڑھانے کے بعد حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے؟ کیا اس طرح کی پوزیشن میں کام کرنے کی اجازت ہے؟ مجھے ابھی تک نوکری نہیں ملی لیکن اگر وہ مجھے آفر کریں تو مہربانی فرما کر مشورہ دیں کہ میں کیا کروں؟ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ کسی بھی زبان کا ادب اور لٹریچر بنیادی طور پر اہلِ زبان کی زندگی کی تمام جہات کو شامل ہوتا ہے، جس میں خوشی، غمی، عشق و محبت ، سونا، جاگنا وغیرہ داخل ہیں اور اس کے بغیر لٹریچر یا اسکی تعلیم نا مکمل اور ادھوری سمجھی جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل جس لٹریچر کی تعلیم دینے سے متعلق سوال کرتا ہے، وہ محبت و عشق کی نفسیات پڑھانے اور تعبیرات و الفاظ کی تشریح کرنے تک تو درست ہے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حرام نہ ہوگی، البتہ اگر اس میں اسلام کے خلاف یا کفر کی تعریف وغیرہ پر مشتمل مواد موجود ہو تو اسکی تعلیم دینا شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: ويجوز الاستئجار على تعليم اللغة والأدب بالإجماع. كذا في السراج الوهاج. الخ ( الباب السادس ج 4 ص 448 ط: ماجدیہ)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0