میں ۔۔۔۔مسلک دیوبند ، میرا بھائی ۔۔۔۔۔۔۔ہے،میرا بھائی میراسمدھی بھی ہے ۔۔۔۔اپنی بیوی کو تحریری طور پر تین طلاق دے چکا ہے لیکن اہلحدیث سے فتویٰ لے کر یہ کہہ رہا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی ،اس لئے ہم ساتھ رہتے ہیں ، میرا داماد اور میری بیٹی اسی گھر میں جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں، اس صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟ میری بیٹی اور داماد الگ مکان لے کر رہیں یا اس کے ساتھ رہیں؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل کا بھائی اور سمدھی اپنی بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دینے کے بعد غیرمقلدوں سے فتویٰ لے کر میاں و بیوی بغیر حلالہ شرعیہ کے ساتھ رہ رہے ہوں، تو ان کا یہ فعل شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اور اس فتویٰ کی بنیاد پر ان کا بغیر حلالہ شرعیہ کے ساتھ رہنا بھی درست نہیں، بلکہ جتنا عرصہ وہ ساتھ رہے ہیں حرام کاری میں مبتلاء رہے ہیں ، دونوں پر لازم ہے کہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرکے گزشتہ فعل پر بصدق دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لئے میاں و بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں وگرنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ سائل کے داماد کو چاہیئے کہ وہ حکمت و بصیرت کے ساتھ اپنے والدین کو سمجھاتے ہوئے، انہیں اس حرام زندگی سے بچانے کی کوشش کرے، چنانچہ اگر وہ سمجھانے کے باوجود اپنے اس فعل حرام سے باز نہ آرہے ہوں تو سائل کی بیٹی اور داماد کا بغرضِ اصلاح ان سے تعلق اور میل جول ختم کرتے ہوئے آپس میں میل ملاپ کم کرنے کی گنجائش ہے، اور اس کی وجہ سے سائل کی بیٹی اور داماد گناہ گار بھی نہ ہوں گے، البتہ ایسی صورت میں بھی والدین کی ضروریات پوری کرنا اور دیگر حقوق و فرائض کی پابندی کرنا سائل کےداماد پر شرعاً لازم ہوگا۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ طلقت بوصول الکتابۃ ) أی الیھا ( الی قولہ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاہ و قع الخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 246 ، ط : سعید )۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: - عن أبي أيوب الأنصاري - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ولا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام ". متفق عليه.» الخ
وفی حاشیتہ: قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما الخ ( کتاب الآداب رقم الحدیث: 5027 ج 9 ص 230 ط: رشیدیہ)۔
و فی عمدۃ القاری: أي: هذا باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى، وقال المهلب: غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام، فمن كان جرمه كثيرا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته، كما جاء في كعب بن مالك وصاحبيه، وما كان من المغاضبة بين الأهل والإخوان فالهجران الجائز فيها ترك التحية والتسمية وبسط الوجه الخ ( کتاب الآداب، باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى ج 22 ص 225 ط: دارالکتب )۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0