کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ:
میں مسمٰی ”کاف " نے گھریلو ناچاقی کی بناء پر اپنی بیوی مسماۃ ”تاء " کو غصہ کی حالت میں چھ مرتبہ طلاق دی ہے،طلاق کے الفاظ یہ تھے” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ اور ہمارے تین بچے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟دو بیٹے ہیں ایک بیٹا تقریباً چار سال،دوسرا بیٹا پانچ مہینے کا اور بیٹی دوسال کی ہے،ان بچوں کی پرورش کی ذمہ داری اور خرچ اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، چنانچہ سائل نے جب غصے کی حالت میں اپنی بیوی کوچھ مرتبہ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ کہہ دیئے ،تو اس سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اس کے بعد جاننا چاہیئے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کے نو سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل بچوں کی پرورش کی زیادہ حقدار ان بچوں کی ماں ہوتی ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بھی سائل کی بچوں کی پرورش کی زیادہ حقدار ان کی والدہ ہے، جب تک وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، البتہ بیٹوں کی عمر سات سال اور بچی کی عمر نو سال ہونے کے بعد اگر سائل انہیں اپنی تحویل میں لینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے، جبکہ اس دوران بچوں کے پرورش پر آنے والے تمام اخراجات سائل کے ذمہ اس کے وسعت کے مطابق لازم ہوں گے۔
وفی رد المحتار: قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش اھ (ج3، صـــ 244، ط:سعید)۔
وفیه ایضاً: و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث اھ ( ج 3، صـــ 233، ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: قلت: ومقتضى هذا الفرع أن من وصل في الغضب إلى حالة لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه اھ (ج3، صـــ369، ط:سعید)۔
وفی التنویر مع الدر: (والحاضنۃ) أما أو غیرھا (أحق بہ) أی بالغلام حتی یستغنی عن النساء وقدر بسبع، وبہ یفتی لأنہ الغالب (إلی قولہ) (والأم والجدۃ) لأم أو لأب (أحق بھا) بالصغیرۃ (حتی تحیض) (وغیرھما أحق بھا حتی تشتھی) وقدر بتسع، وبہ یفتی اھ (ج3، صـــ566،ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج 1، صـــ355،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (ج1، صـــ473، ط:ماجدیہ)۔
وفیھا أیضاً: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد رحمه الله تعالى إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين اھ (ج1،صـــ542،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم (إلی قولہ) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير (إلی قولہ) فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأب وأم، فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأم (إلی قولہ) وخالة الأم أولى من خالة الأب عندنا، ثم خالات الأب وعماته على هذا الترتيب كذا في فتح القدير. والأصل في ذلك أن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات فكانت جهة الأم مقدمة على جهة الأب كذا في الاختيار شرح المختار اھ (ج1،صـــ541،ط:ماجدیۃ)۔
وفی فتاوی قاضی خان: نفقۃ الأولاد الصغار والإناث المعسرات علی الأب لا یشارکہ فی ذلک أحد ولا تسقط بفقرہ ولا یجب علیہ نفقۃ الذکور الکبار إلا أن یکون الولد عاجزاً عن الکسب لزمانۃ أو مریض فتکون نفقتہ علی والدہ ومن یقدر علی العمل لٰکن لا یحسن العمل فھو بمنزلۃ عاجز لأن من لا یحسن العمل لا یستأجرہ الناس اھ (ج1،صـــ385،ط:بیروت)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0