کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری ایک زمین ہے، جو فی الحال ہمارے استعمال میں نہیں ہے، ہمیں اس وقت پیسوں کی اشد ضرورت ہے، جبکہ کوئی قرضہ حسنہ دینے کے لئے تیار نہیں ہے، ایک شخص یہ زمین لینا چاہتا ہے 3 لاکھ میں، اس کا کہنا ہے کہ جب تک آپ میری رقم واپس نہیں لوٹا دیتے ،تو وہ زمین میں اپنے استعمال میں لاؤں گا اور میری رقم میں سے پچیس ہزار روپے آپ لوگ کاٹ لیا کریں، جبکہ واضح ہو کہ اس طرح کی زمین کا سالانہ کرایہ تقریباً پچاس ہزار سے زائد ہے، لیکن چونکہ اس سے ہم تین لاکھ روپے لیں گے تو وہ پچیس ہزار سے زیادہ دینے یا کٹوانے کے لئے تیار نہیں اور ہم اس سے یہ بات طے کرچکے ہیں کہ جب بھی ہم آپ کی بقیہ رقم آپ کو لوٹادیں تو آپ نے وہ زمین ہمارے حوالہ کردینی ہے، اب اس صورتِحال میں آپ ہمیں بتائیں کہ شرعی لحاظ سے یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر ٹھیک نہیں ہے تو اس کے جواز کی کیا صورت ہوگی؟
واضح ہو کہ قرض دے کر اس پر کسی بھی قسم کا مشروط یا معروف نفع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ طریقۂ کار کے مطابق معاملہ کر کے قرض دینے کی وجہ سے پچاس ہزار روپے سے زائد کرایہ کی جگہ کا فقط پچیس ہزار روپے کرایہ وصول کرنا اور قرض کی وجہ سے رعایت کرنا سودی معاملہ کی ایک صورت ہے، اس لئے ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سائل مذکور شخص کے ساتھ قرض کا معاملہ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ معلوم و متعین مدت تک کرایہ داری کا معاملہ کر لے اور کرایہ کی مد میں تین لاکھ روپے ایڈوانس وصول کرلے اور پھر ہر ماہ طے شدہ رقم کرایہ کی مد میں کاٹتا رہے، تو ایسا کرنے سے یہ معاملہ شرعاً درست ہوجائے گا ۔
کما فی رد المحتار تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه الخ ( ج 5 ص 166 ط: سعید )۔
وفیہ ایضاً: وممن أفتى بلزوم الخلو الذي يكون بمقابلة دراهم يدفعها للمتولي أو المالك العلامة المحقق عبد الرحمن أفندي العمادي صاحب هدية ابن العماد وقال: فلا يملك صاحب الحانوت إخراجه ولا إجارتها لغيره ما لم يدفع له المبلغ المرقوم، فيفتي بجواز ذلك للضرورة قياسا على بيع الوفاء الذي تعارفه المتأخرون احتيالا على الربا إلخ. قلت: وهو مقيد أيضا بما قلنا إذا كان يدفع أجر المثل، وإلا كانت سكناه بمقابلة ما دفعه من الدراهم عين الربا كما قالوا: فيمن دفع للمقرض دارا ليسكنها أو حمارا ليركبه إلى أن يستوفي قرضه أنه يلزمه أجرة الدار أو الحمار على أن ما يأخذه المتولي من الدراهم ينتفع به لنفسه، فلو لم يلزم صاحب الخلو أجرة المثل للمستحقين يلزم ضياع حقهم الخ ( ج 4 ص 522 ط: سعید )۔
وفی الدر المختار: (ويعلم النفع ببيان المدة كالسكنى والزراعة مدة كذا) الخ (کتاب الاجارۃ ج 6 ص 6 ط: سعید )۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0