گزارش عرض یہ ہے کہ میرے والد اپنے بچپن سے کچھ محرومیوں کی وجہ سے دماغی نفسیاتی ہوگئے تھے، سوتیلی ماں کے ظلم کی وجہ سے ہر وقت کا غصہ رہنے لگا تھا، اب تو وہ بوڑھے ہوگئے ہیں، دو دن پہلے اسی غصے میں میری والدہ کو طلاق دے دی، اور ان کے یہ الفاظ تھے ، پہلی دفعہ میں انہوں نے کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں، پھر دو دفعہ صرف طلاق طلاق کا لفظ استعمال کیا اور اب بہت شرمندہ ہیں، بہت معافی مانگ رہے ہیں، عمر بھی بہت ہے، بڑھاپا ہے، بیماربھی رہتے ہیں، میں ایک بیٹا ہوں، میں نے اپنی ماں کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے، کیا میں اپنے والد کو بھی رکھ سکتا ہوں ، کیونکہ وہ کہاں جائیں گے اس عمر میں ، اگر میرے والدین کے بیچ کوئی بھی ملاپ ہوسکتا ہے، کوئی راستہ نکل سکتا ہے دونوں کے بیچ ،اگر نہیں تو میں دونوں کو ایک گھر میں رکھ سکتا ہوں؟ مہربانی فرما کر آپ اپنا بہتر جواب مجھ تک پہنچا دیجئے ، عین نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے والد نے واقعۃً اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" کے بعد دو مرتبہ طلاق ،طلاق، کا لفظ استعمال کیا ہو، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، تاہم اگر سائل کی والدہ بڑھاپے کی وجہ سے حلالۂ شرعیہ کے لئے تیار نہ ہو اور بہ مجبوری عدت کے بعد دونوں ایک ہی گھر میں رہنا چاہیں تو شرعی پردے کا اہتمام کرتے ہوئے ایک ہی گھر میں رہ سکتے ہیں، البتہ اس صورت میں سائل کے والدین کا تنہائی اختیار کرنا یا بے محابا آمنے سامنے آنا یا گپ شپ لگانا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (ج3 ص187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔
وفی الدرالمختار:تحت مطلب في طلاق المدهوش (الی قولہ) ويقع الطلاق من غضب (الی قولہ) والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر،الخ (ج3ج244 مطلب فی الطلاق المدھوش ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.الخ (ج3 ص538 کتاب الطلاق فصل فی الحداد ط سعید )۔
وفی ردالمحتار:تحت (قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط. الخ(ج3 ص 538 کتاب الطلاق فصل فی الحداد)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0