کچھ اساتذہ کرام اسکول کے اوقات میں مختلف دوسرے کام کرتے ہیں، جن کی ان کو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اجازت نہیں ہوتی اور اس کا الگ سے معاوضہ لیتے ہیں، کیا یہ معاوضہ حلال ہے؟
واضح ہو کہ ملازمت کے مقررہ اوقات میں مفوضہ ذمہ داری ترک کرکے غیر متعلقہ کوئی دوسرا کام کرنا جائز نہیں بلکہ خیانت ہے، اور اتنے وقت کی تنخواہ بھی حلال نہ ہوگی، لہٰذا مذکور اساتذہ کرام کا اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی اجازت کے بغیر اسکول کے مقررہ وقت میں کوئی دوسرا کام کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے آئندہ کے لئے احتراز لازم ہے، البتہ اب تک اس طرح کام کرکے جو مال کمایا ہے، وہ ان کے لئے حرام نہ ہوگا، تاہم ادارہ کی طرف سے ملنے والی تنخواہ میں سے اتنے وقت کی تنخواہ ادارہ میں واپس کرنا لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي (إلی قولہ) وفی فتاوی الفضلی رحمہ اللہ تعالی إذا استأجر رجلا یوما لیعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذلک العمل إلی تمام المدۃ ولا تشتغل بشیء آخر الخ (کتاب الإجارۃ الباب الثالث ج 4 صـ 416 ط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل اھ (کتاب الإجارۃ ج 6 صـ 69-70 ط: سعید)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0