السلام علیکم!
مجھے طلاق کی تصدیق کرنی ہے،میں اور میری پاٹنر یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے ،اور جب ہم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے، ہم نے کسی کو بتائے بغیر چھپ کر نکاح کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ ہماری اصل شادی ہونے تک حلال رشتے میں رہ سکیں، چنانچہ ولی کے بغیر ہمارا ایک سادہ سا نکاح ہوا جس میں ہمارے دو دوست گواہ تھے اور اس نے خود مجھ سے تین بار صحیح طریقے سے منعقد ہونے والے نکاح میں کہے جانے والے ایجاب کے الفاظ کے ساتھ پوچھا کیا نکاح ہوگیا ہے،جس میں طے شدہ مہر کا فیصلہ بھی شامل تھا، پھر ہم نے 4 سال گزارے اور ہم دونوں ایک سال سے نوکری کر رہے تھے اور فیملی ہماری شادی کے لئےتیار ہے، ہم نے ایک سال میں اپنی آفیشل شادی کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن شدید تنازعات کی وجہ سے ہمارے درمیان کئی بار جھگڑا ہوا، میں نے طلاق کے لئے کہا اور وہ اس قدر غصے میں تھا کہ ایک بار میسج میں درست الفاظ میں کہا کہ ’’میں اس کو طلاق دیتا ہوں‘‘ اور پھر دو بار اور کہا "طلاق دیتا ہوں"تو کل تین جن میں ایک پر زور دیا گیا، ہم اب بھی ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور ہمارا طے شدہ شادی کا پروگرام بھی ہے، آپ بتائیں کہ کیا یہ طلاق شمار ہوتی ہے؟ کیا اب جب بھی ہماری شادی کا فیصلہ ہو جائے تو ہم آفیشلی طور پر نکاح کر سکتے ہیں؟
نوٹ: سائل سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہوچکی تھی۔
سائل نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ سائل مذکور لڑکی کا کفؤ اور ہم پلہ ہے یا نہیں؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم سائل اگر مذکور لڑکی کا کفؤ اور ہم پلہ ہو اور نکاح باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ہوا ہو تو ایسی صورت میں شرعاً یہ نکاح منعقد ہوچکا تھا، چنانچہ نکاح اور خلوتِ صحیحہ کے بعد جب سائل نے بیوی کو مذکور الفاظ"میں اس کو طلاق دیتا ہوں""طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں "کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ ِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کےفوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ِثانی نکاح کے بعد بیوی کو طلاق دے گا، تا کہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے، یہ مکر وہِ تحریمی ہے ،اور اس پر حدیث میں وعید یں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الھدایۃ: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين الخ (کتاب النکاح، ج 2، ص 5)۔
وفی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة الخ(فصل فی الطلاق قبل الدخول، ج1، ص373، ط: ماجدیہ)۔
و فی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0