السلام علیکم! کیا بھانجی کا شوہر محرم ہے؟ کیا بہن کی سوتیلی اولاد محرم ہیں؟ کیا عدت میں ان کے سامنے آسکتے ہیں؟ میرا گھر کرایہ کا تھا اور کوئی کرایہ دینے والا نہ تھا تو میں بھائی کے گھر عدت کررہی ہوں تو یہ جائز ہے؟
واضح ہو کہ پردہ کے احکام فقط ایام عدت کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ان احکامات کی پابندی ایام عدت سے قبل اور بعد میں بھی شرعاً لازم و ضروری ہے، جبکہ بھانجی کا شوہر اور بہن کے شوہر کی سابقہ اولاد (لڑکے) عورت کے لئے شرعاً غیر محرم ہیں، اس لئے ان سے مطلقاً پردہ کرنا لازم ہے، جبکہ سائلہ کے شوہر کا جس گھر میں انتقال ہوا ہے وہ مکان اگر کرایہ کا ہو، جس کے کرایہ کی ادائیگی سائلہ کے لئے ممکن نہ ہو اور نہ ہی کوئی اور گھر کا کرایہ دینے والا موجود ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کے لئے اپنے بھائی کے گھر عدت گزارنا جائز اور درست ہوگا۔
کما فی تفسیر القرطبی: الثانية عشرة- قوله تعالى: (أو أبناء بعولتهن) يريد ذكور أولاد الأزواج، ويدخل فيه أولاد الأولاد وإن سفلوا، من ذكران كانوا أو إناث، كبني البنين وبني البنات. وكذلك آباء البعولة والأجداد وإن علوا من جهة الذكران لآباء الآباء وآباء الأمهات، وكذلك أبناؤهن وإن سفلوا. وكذلك أبناء البنات وإن سفلن، فيستوي فيه أولاد البنين وأولاد البنات. وكذلك أخواتهن، وهم من ولده الآباء والأمهات أو أحد الصنفين. وكذلك بنو الاخوة وبنو الأخوات وإن سفلوا من ذكران كانوا أو إناث كبني بني الأخوات وبني بنات الأخوات. وهذا كله في معنى ما حرم من المناكح، فإن ذلك على المعاني في الولادات وهؤلاء محارم.اھ (سورة النور، الاية: 31،ج:12، ص:232، ط:دار الکتب العلمية)۔
وفی الھندیۃ: إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل،الخ (ج1، ص535، ط۔ماجدیہ)۔
و فی الدرالمختار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،الخ (ج3، ص536،ط۔سعید)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0