یہاں ایک تفصیلی بیان ہے،محترم عالمِ دین کے نام، ہم آپ سے شرعی رہنمائی کی درخواست کرتے ہیں ایک معاملے پر، جو دو افراد کے درمیان اسکالرشپس کی معلومات سے متعلق ہے۔ میں پہلی پارٹی انٹرنیٹ پر دستیاب مختلف اسکالرشپس کے بارے میں معلومات رکھتا ہوں۔ خاص طور پرہماری یونیورسٹی میں یہ معلومات بڑی حد تک نامعلوم ہیں، اور صرف چند افراد جن میں میں خود بھی شامل ہوں، ان مواقع سے آگاہ ہیں۔ عموماً کسی کو اضافی اسکالرشپس کے وجود کا علم نہیں ہوتا ، جب تک انہیں نہ بتایا جائے کہ اضافی اسکالرشپس موجود ہیں۔ یہ معلوم ہونے پرمیں نے دوسری پارٹی سے رابطہ کیا اور انہیں ان اسکالرشپس کے بارے میں بتایا۔ میں نے وضاحت کی کہ میں یہ معلومات فراہم کرنے کے لئے ایک فیس لوں گا۔ مزید یہ بھی بتایا کہ یہ اسکالرشپس ہماری یونیورسٹی میں عام طور پر معلوم نہیں ہیں، اور صرف چار افراد، جن میں میں بھی شامل ہوں، انہیں حاصل کر چکے ہیں۔ میں نے واضح کیا کہ یہ معلومات منفرد اور قیمتی ہیں، جو طلباء کے لئے بآسانی دستیاب نہیں ہیں۔ دوسری پارٹی نے میری شرائط سے اتفاق کیا۔ گفتگو کے دوران دوسری پارٹی نے ذکر کیا کہ وہ ایک دوست کو جانتا ہے جو ایک قریبی یونیورسٹی میں ہے، اور اس نے کہا کہ اس کی یونیورسٹی میں بھی وہی اسکالرشپس موجود ہیں اور یہ کوئی راز نہیں ہے۔ ایک شخص شاہ میر کا ذکر کیا، جس کے بارے میں پہلی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس اسکالرشپ نہیں ہے۔ پہلی پارٹی نے وضاحت کی کہ مذکورہ شخص بھی اسکالرشپ کے بارے میں نہیں جانتا تھا، جب تک کہ میں نے اسے نہیں بتایا اور واٹس ایپ گفتگو کو اس کا ثبوت کے طور پر منسلک کیا۔ دوسری پارٹی نے اتفاق کیا کہ پہلی پارٹی کا دعویٰ زیادہ مضبوط ہے، اور پہلی پارٹی کے بیان سے اتفاق کیا۔ اس تناظر میں دوسری پارٹی نے مجھے ان اسکالرشپس کی رہنمائی فراہم کرنے کے لئے ادائیگی پر اتفاق کیا، اس سمجھ کے ساتھ کہ مجھے صرف اس صورت میں معاوضہ دیا جائے گا جب وہ کامیابی سے اسکالرشپس حاصل کر لے گا۔ بعد میں، میں نے اسے ضروری رہنمائی فراہم کی، اور اس نے اسکالرشپس حاصل کر لیں۔ تاہم دو ماہ بعد دوسری پارٹی نے گوگل سرچ ”فریش مین اسکالرشپس ان یونیورسٹی کا نام“ میں ان ہی اسکالرشپس کو سب سے اوپر پایا اور محسوس کیا کہ یہ اسکالرشپس واقعی راز نہیں تھیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معلومات سب کے لئے واضح اور قابل رسائی تھیں، جیسا کہ پہلی پارٹی نے سودے کی گفت و شنید کے دوران دعویٰ کیا تھا۔ ہم اس معاملے کو آپ کے پاس لاتے ہیں تاکہ آپ دوسری پارٹی کی معاہدے کے تحت ادائیگی کی ذمہ داری پر اپنا فیصلہ فرمائیں، حالات اور ابتدائی معاہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ آپ کے وقت اور غور کا شکریہ۔
واضح ہو کہ لوگوں کو محض معلومات فراہم کرنے پر جبکہ وہ معلومات عام دستیاب ہوں اورادارے کی پالیسی کے مطابق کوئی بندہ مطلوبہ کوائف پورا کرکے اس کا اہل بن سکتا ہو تو اگر ان کے حصول کےلئے کوئی خاص محنت اور تگ و دو نہ کرنا پڑتی ہواور نہ ہی پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہو اور یہ اس شخص کا بنیادی کام وغیرہ بھی نہ ہو تو محض معلومات فراہمی پر فیس لینا شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر اسکالرشپس کی مذکورہ معلومات کی فراہمی سائل کا بنیادی کام نہ ہو اور اسے اس کام و معلومات کے حصول کےلئے محنت اور رقم خرچ نہ کرنا پڑتی ہو بلکہ محض کسی ذریعے سے سائل کے پاس مذکورہ معلومات آگئی ہوں تو اس صورت میں سائل کا مذکور اسکالرشپس کی معلومات فراہم کرنے پر فیس وصول کرنے کا معاہدہ کرنا یا فیس لیناشرعاً جائز نہیں ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: إن دلنی على كذا فله كذا فدله فله أجر مثله إن مشى لأجله۔ من دلنی علی کذا فلہ کذا فھو باطل ولا أجر لمن دلہ إلا إذا عین الموضع إلخ۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ إن دلنی) رجل ضل لہ شئی فقال من دلنی علی کذا فلہ کذا فھو علی وجھین: إن قال ذالک علی سبیل العموم بأن قال من دلنی فالإجارۃ باطلۃ لأن الدلالۃ والإشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتنی على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشی لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشی فھو والأول سواء إلخ۔ (باب فسخ الإجارۃ، ج 6، ص 95، ط:سعید)۔
وفی درر الأحکام شرح مجلۃ الأحکام:مثال لعدم تعيين الأجير: إذا استأجر شخص أحد هذين الأجيرين فلا يكون الإيجار صحيحا وكذا فی الجعالة إذا كان الأجير مجھولا فلو فقد شخص مالا له وأعلن أنه يدفع لمن يجده كذا قرشا فوجده شخص فليس له أن يأخذ على ذلك شيئا لأنه غير معلوم والإجارة التی لا يتعين فيھا الأجير غير صحيحة وكذلك إذا قال هذا القول لشخص معين فدله عليه بالقول بدون عمل فليس له أجرة لأن الدلالة والإشارة ليستا ما يؤخذ عليھما أجر۔أما إذا ذهب معه ليدله عليه فله أجر المثل لأن الذهاب عمل وتؤخذ الأجرة فی مقابله إلخ۔ (الفصل فی شروط صحۃ الإجارۃ، المادۃ:439، ج 1، ص 502، ط: دار الجیل)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0