میرا نام وریشہ خان صاحبزادی محمد عمران خان ہے، میری یکم فروری کو اپنی شوہر سید مطاہر علی ولد سید سخاوت علی سے لڑائی ہوکر ایک مہینے کے لئے جدائی ہوگئی، اور 2 مارچ کو انہوں نے مجھے طلاق کے کاغذات بھیج دیے ، اُس دوران میں حیض کے معاملہ سے گزر رہی تھی اور میرے ابھی تک تین حیض مکمل نہیں ہوئے عدت کے حساب سے، کچھ علماء کہہ رہے ہیں کہ تین مرتبہ طلاق دینے سے طلاقیں ہوجاتی ہیں، لیکن کچھ کہہ رہے ہیں کہ عدت کے وقت میں رجوع کر کے ، نئے حق مہر سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے، یہ پہلی طلاق تھی اس سے پہلے انہو ں نے کبھی مجھے طلاق نہیں دی، بلکہ پیپر بھیج دیا ،میرا 8 مہینےکا بچہ ہے اور اسکا کورٹ میں کیس چل رہا ہے، مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے رجوع کرنا ہے، اور وہ فتوی مانگ رہے ہیں ثبوت کے طور پر , کیا رجوع کی گنجائش ہے؟
واضح ہو کہ حالتِ حیض میں طلاق دینا اگرچہ شرعاً غیر مناسب طرزِ عمل ہے، تاہم حالتِ حیض میں بھی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تحریری یا زبانی طلاق دیدیتا ہے ، تو اس سے بھی اس کی بیوی پر طلاق شرعاً واقع ہو جائیگی، لہذا سائلہ کے شوہر نے "میں طلاق دیتا ہوں" جیسے واضح اور صریح الفاظ طلاق پر مشتمل تین طلاقوں کا طلاق نامہ بنوا کر ، اس پر تحریری دستخط کر دیئے ہوں تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی تفصیل اور طلاق نامہ کی کاپی ارسال کر کے مکرر معلوم کیا جاسکتا ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَإنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
کما فی الھندیۃ: إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولا تحتسب هذه الحيضة من العدة كذا في الظهيرية الخ (کتاب الطلاق الباب الثالث عشر ج1 صـ 527 ط: ماجدیۃ)
وفی الھدایۃ: " وإذا طلق الرجل امرأته في حالة الحيض لم تعتد بالحيضة التي وقع فيها الطلاق " لأن العدة مقدرة بثلاث حيض كوامل فلا ينقص عنها الخ (2/276)
وفی الھندیۃ: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق و تلزمها العدة من وقت الكتابة (کتاب الطلاق الفصل السادس ج 1 صـ 378ط: ماجدیۃ)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0