ایک جزئیہ فتاوی ہندیہ میں ہے "ببقرۃ واحدۃ غنی "اس کا محمل کیا ہے ؟یہ جزئیہ " لسان الحكام في معرفة الأحكام،الفتاوى البزازية أو الجامع الوجيز في مذهب الإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان اور كمال الدراية وجمع الرواية والدراية من شروح ملتقى الأبحر میں بھی مذکورہے ،مقصد سوال یہ ہے کہ یہ جزئیہ مطلق ہے،کیا دودھ والی گائے اور پالتو گا ئے دونوں برابر ہیں کہ اگر کسی کے پاس صرف دودھ والی گائے ہے یا پالتو گائے ہے تو اس کی وجہ سے وہ غنی ہے ،لہذا اس پر قربانی ہے یا یہ مقید ہے ؟رہنمائی فرماکر مشکور فرماویں ۔
صورت مسئولہ میں مذکور جزئیہ"ببقرۃ واحدۃ غنی " ضرورت سے زائد ہونے اور اس کی مالیت کے نصاب تک پہنچنے کے ساتھ مقید ہے ،نہ کہ مطلق ہے،یعنی اگر کوئی شخص قرض اور واجب الاداء رقم منہا کرنے کے بعد اس کے پاس ضرورت سے زائد ایک ایسی گائے ہو جس کی مالیت ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ہو، تو وہ غنی (صاحب نصاب) متصور ہوگا جس پر قربانی واجب ہوگی،محض دودھ والی یا پالتو گائے (جس کو ضرورت کےلئے پالا ہو )ساتھ ہونے سے وہ غنی(صاحب نصاب) شمار نہ ہوگا،جس کی طرف اسی عبارت میں مذکورلفظ" والزارع بثورين وآلة الفدان ليس بغني "میں واضح اشارہ موجودہے۔
کمافی خلاصۃ الفتاویٰ: قال ابوحنیفۃؒ: الموسر الذی لہ مائتا درھم او عرض یساوی مائتی درھم سوی المسکن والخادم والثیاب التی یلبس ومتاع البیت الذی یحتاج الخ(کتاب الاضحیۃ،الفصل الثانی فی نصاب الاضحیۃ،ج4،ص309،ط:مکتبۃ رشیدیۃ)۔
وفی الدر: وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر الخ
وفی الردتحت(قولہ: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية الخ(کتاب الاضحیۃ، ج6ص312،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: وفي الأجناس رجل به زمانة اشترى حمارا يركبه ويسعى في حوائجه وقيمته مائتا درهم فلا أضحية، ولو كان له دار فيها بيتان شتوي وصيفي وفرش شتوي وصيفي لم يكن بها غنيا، فإن كان له فيها ثلاثة بيوت وقيمة الثالث مائتا درهم فعليه الأضحية وكذا في الفرش الثالث، والغازي بفرسين لا يكون غنيا وبالثالث يكون غنيا، ولا يصير الغازي بالأسلحة غنيا إلا أن يكون له من كل سلاح اثنان أحدهما يساوي مائتي درهم، وفي الفتاوى الدهقان ليس بغني بفرس واحد وبحمار واحد، فإن كان له فرسان أو حماران أحدهما يساوي مائتين فهو نصاب، والزارع بثورين وآلة الفدان ليس بغني، وببقرة واحدة غني الخ(کتاب الاضحیۃ، الباب الاول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها،ج5،ص293،ط:ماجدیۃ)۔