کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مئلہ کے بارے میں کہ میں نے دوماہ قبل اپنی بیوی کو یہ الفاظ "میں نے تمہیں طلاق دی " دو مرتبہ بولے، اس کے بعد وہ میرے گھر میں ہی تھی اور ہم دونوں میاں بیوی طرح ایک ساتھ رہتے رہے ، اس کے بعد کل میں نے غصہ میں آکر چار مرتبہ یہ الفاظ "میں نے تمہیں طلاق دی " بول دیے، اب آیا کہ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟
سائل کا دوماہ قبل اپنی بیوی کو مذکور صریح اور واضح الفاظ "میں نے تمہیں طلاق دی " کے ذریعہ دو (2) طلاقیں دینے کے بعد رجوع کرنے سے ،یہ رجوع شرعاً بھی درست ہوا تھا ،جس کے بعد سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا ،چنانچہ حالیہ واقعہ میں جب سائل نے غصہ میں آکر مذکور الفاظ "میں نے تمہیں طلاق دی " چار مرتبہ کہہ دیے تو اس سے مزید ایک طلاق بھی واقع ہوکر مجموعی طور پرتین طلاقوں سے حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ،لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے ،جبکہ عورت ایامِ عدت گزار نے کے بعد کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما قال اللہ تعالی:{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]
و فی الفتاوی الھندیۃ :وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/473)-
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0