HBL بینک میں سافٹ ویئر بنا کر دینے کی ملازمت حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ کسی بھی ادارے کے لیے کوئی ایسا سافٹ ویئر تیار کرنا، جو صرف سودی معاملات میں استعمال ہوتا ہو اور جس کا جائز استعمال نہ ہو، شرعاً ناجائز اور حرام ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل HBL بینک کے لیے ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جو صرف سودی استعمالات میں کام آئے، سودی معاملات کو منظم کرے، حساب کتاب چلائے یا اس نظام کو فروغ دے، تو یہ عمل شریعت کی روح سے ناجائز اور حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے،چونکہ سودی بینکوں میں سافٹ ویئر کا غالب استعمال سودی معاملات میں سہولت فراہم کرنے اور ان کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہوتا ہے، اس لیے سائل کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے اداروں کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے سے پرہیز کرے جن کا تعلق سود یا ناجائز کاروبار سے ہو،اس کے بجائے اپنی مہارت کو حلال اور مفید منصوبوں میں استعمال کرے، ایسا کرنے سے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل ہوگا بلکہ حلال اور بابرکت روزی بھی نصیب ہوگی۔
وفي فقہ البیوع: وكذلك الحكم في برْمَجة الحاسب الآلي (الكمبيوتر) لبنك ربويّ. فإن قصد بذلك الإعانة، أو كان البرنامج مشتملاً على ما لا يصلح إلا في الأعمال الربوية، أو الأعمال المحرمة الأخرى، فإن العقد حرام وباطل، أما إذا لم يقصد الإعانة، وليس في البرنامج ما يتمحض للأعمال المحرمة، صح العقد وكره تنزيهاً؛ وعلى هذا الأساس يمكن تخريج مسائل حديثة كثيرة من هذا النوع، والله أعلم اھ (الباب الثانی فی الاحکام المتعلقۃ بالمتعاقدین، ج:1، ص:189 مکتبہ معارف القرآن کراچی)-
و فیہ أیضاً: أن يؤجر المرأ نفسه للبنك بأن يقبل فيه وظيفة. فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل التعاقد بالربوا أخذاً أو عطاء، أو خصم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليها، أو تقاضى الفوائد الربوية، أو دفعها، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإن الإدارة مسئولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبها حرام،ومن كان موظفاً في البنك بهذا الشكل، فإن راتبه الذي يأخذ من البنك كله من الأكساب المتحركة(الى قوله) أما إذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربوية، مثل وظيفة الحارس أوسائق السيارة، أو العامل على الهاتف، أو الموظف المسئول عن صيانة البناء، أو المعدات، أو الكهرباء، أو الموظف الذى يتمخض عمله في الخدمات المصرفية المباحة، مثل تحويل المبالغ، والصرف العاجل للعملات، وإصدار الشيك المصرفيأو حفظ مستندات الشحن، أو تحويلها من بلد إلى بلد، فلا يحرم قبولها إن لم يكن بنية الإعانة على العمليات المحرمة، وإن كان الاجتناب عنها أولى اھ (التعامل مع البنوك الربوية، ج:2، ص:1064مکتبہ معارف القرآن کراچی)-
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0