السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
اگر ایک شے کا مالک کسی سیلز ایجنٹ کو ایک شے دے کر کہتا ہے کہ یہ شے مثال کے طور پر سوٹ 3000 کا ہے ،اس سے اوپر جتنے کا بیچ لو، وہ تمہارا ہو گا، لیکن وہ ایجنٹ خوداسے ٹھیک کرنے کے لیے اس مالک کے ساتھ ایسا ایگریمنٹ کر لے اور ایک سسٹم فکس کر لے کہ اگر میں نے یہ سوٹ ایک سو سے تین سوروپے منافع پر بیچا تو آپ مجھے ایک سو روپے فی سوٹ دے دینا۔ اور اگر میں نے اسے مزید محنت کر کے تین سو سے چھ سو تک منافع پر بیچ لیا تو آپ مجھے تین سوروپے فی سوٹ دے دینا۔ یعنی دو یا تین کیٹیگریز بنا لے۔
تو کیا ان کا ایسا معاہدہ ٹھیک ہو گا؟
واضح ہو کہ سیلز ایجنٹ کی شرعی حیثیت فقہی اصطلاح میں بروکر یا دلال کی ہے، جسے اجیر عام کہا جاتا ہے، اور اجیر عام کے لیے اجارہ کے عقد میں اجرت کا تعین کرنا لازم وضروری ہے، کیونکہ اجرت کے بغیر اجارہ کا عقد فاسد شمار ہوگا۔اوراگرکسی صورت میں مالک کی طرف سے سیلز ایجنٹ کے ساتھ طے شدہ معاہدے میں اجرت مجہول ہو یا اس کاحصول غیر یقینی (مثلاًشے فروخت ہی نہ ہو) ہو تو یہ شرعاً جائز نہیں ہوتا۔لہذا،صورت مسئولہ میں سائل نےاپنے سیلزمین کے ساتھ معاہدہ کی جوصورت بیان کی ہے،اس میں بھی سیلزمین کی اجرت کاغیریقینی ہونالازم آتاہے جوکہ شرعاًدرست نہیں ،جس سے احترازلازم ہے۔
تاہم اس کاصحیح اور جائز طریقہ یہ ہوسکتاہے کہ مالک سیلز ایجنٹ کے لیے بطور اجرت کچھ مخصوص رقم پہلے سے مقرر کردے، اور اضافی رقم کو اس کی محنت اور شے کے فروخت ہونے پر بطور انعام یا اضافی معاوضہ دینے کاوعدہ کرے، تاکہ اجرت واضح اور اس کاحصول یقینی ہو، اور معاہدہ شرعاً جائزاوردرست ہوسکے۔
کما فی البخاری( باب اجر السمسرۃ )ولم ير ابن سيرين وعطاء وإبراهيم والحسن بأجر السمسار بأسا.
وقال ابن عباس: لا بأس أن يقول: بع هذا الثوب، فما زاد على كذا وكذا فهو لك.
و فی فتح الباری تحت(قوله: وقال بن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك) وصله بن أبي شيبة من طريق عطاء نحوه وهذه أجر سمسرة أيضا لكنها مجهولة ولذلك لم يجزها الجمهور وقالوا إن باع له على ذلك فله أجر مثله الخ(کتاب الاجارۃ، باب اجر السمسرۃ، ج 4، ص569 ط:قدیمی کتب خانہ )۔
وفی الصحیح لمسلم: عن أبي هريرة. قال:نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر.الخ(کتاب البیوع، باب بطلان بيع الحصاة، والبيع الذي فيه غرر،ح1513،ج3،ص1153،ط:دار الطباعۃ العامرۃ)۔
وفی المرقاۃ:تحت قولہ ﷺ: وعن بيع الغرر) بفتح العين المعجمة والراء الأولى أي ما لا يعلم عاقبته من الخطر الذي لا يدرى أيكون أم لا الخ(کتاب البیوع،باب المنھی عنھا من البیوع،الفصل الاول،ح2854،ج5،ص1934،ط:دار الفکر)۔
کما فی الدر: وجاز إجارة القناة والنهر مع الماء به يفتى لعموم البلوى مضمرات اهـ. الخ
وفی الرد تحت ( قولہ: مع الماء) ( الی قولہ) قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم ، وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه الخ( کتاب الاجارۃ، مطلب فی اجرۃ الدلال، ج 6، ص 63، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی مجمع الانھر: وأما بيان شرائطها فنقول يجب أن تكون الأجرة معلومة، والعمل إن وردت الإجارة على العمل، والمنفعة إن وردت الإجارة على المنفعة، وهذا لأن الأجرة معقود به والعمل أو المنفعة معقود عليه، وإعلام المعقود به وإعلام المعقود عليه شرط تحرزا عن المنازعة الخ(کتاب الاجارات،الفصل الاول،ج7،ص393،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0