سوال 1: میرے پاس ایک ملازمت کا موقع ہے، لیکن کیا مالیاتی کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کرنا جائز ہے جس کی بنیادی توجہ اس کے مالیاتی سافٹ ویئر مصنوعات پر ہے؟ اس کی مصنوعات کی نوعیت درج ذیل ہے:
چیک آؤٹ سافٹ ویئر: یہ ویب سائٹس کے لیے ادائیگی کے میکانزم پر مبنی ہے، جیسے ریسٹورینٹ کے کھانے کے آرڈر کی ادائیگی کے لیے جس میں ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کا آپشن شامل ہوتا ہے۔
فنانسنگ سافٹ ویئر: یہ صارفین کے لیے قرض کی درخواست کے عمل کو ڈیجیٹل اور آسان بناتا ہے، تاکہ رکاوٹیں کم ہوں، حالانکہ سافٹ ویئر کمپنی خود قرض فراہم نہیں کرتی، لیکن اس میں سود پر مبنی قرض بھی شامل ہو سکتا ہے۔ کمپنی: SafePay (https://www.getsafepay.pk/)
سوال 2: موجودہ کمپنی (پروجیکٹ بیسڈ سافٹ ویئر ہاؤس) جس میں میں کام کرتا ہوں، نے مجھے ایک پروجیکٹ میں شامل کیا جس میں مجھے ایک ویب ایپ فرنٹ اینڈ پر کام کرنا تھا جو اثاثہ فنانسنگ کے لیے قرض کی درخواست کے عمل پر مشتمل تھا۔ میں نے پہلے اپنے مقامی مسجد کے امام سے اس کی اجازت کے بارے میں پوچھا تھا اور انہیں صورتحال بتائی تھی، انہوں نے اسے جائز، لیکن ناپسندیدہ کہا تھا، کیونکہ میں کسی کو اسے اپنانے پر مجبور نہیں کر رہا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں یہ مجھے بہت پریشان کر رہا ہے۔ اگر یہ نقصان دہ ہے اور میں اس پر دو ماہ سے زیادہ عرصے تک کام کر چکا ہوں تو کیا میرے لیے ضروری ہے کہ میں دو یا تین ماہ کی تنخواہ صدقہ میں دوں؟
واضح ہو کہ کسی بھی مالیاتی کمپنی میں بطورِ سافٹ وئیر انجینئر ایسے سافٹ وئیر ڈیویلپ کرنے کی گنجائش ہےجو بنیادی طور پر جائز امور کےلئے ڈیویلپ کئے جاتے ہوں اور اس کی آمدنی اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔ اگر سافٹ وئیر کا استعمال سودی حساب کےلئے ہو اور جائز کام میں اس کا استعمال نہ کیا جاسکتا ہوتو اس صورت میں ایسا سافٹ وئیر بنانا اور فروخت کرنا اور ایسی سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی میں ملازمت اختیار کرنا درست نہ ہوگا۔ لہٰذا اس کمپنی میں بنائے جانے والے مذکور سافٹ وئیرکا استعمال چونکہ ناجائز اور حرام لین دین کے ساتھ مخصوص نہیں، اس لئے سائل کےلئے یہ ملازمت جاری رکھنا شرعاً جائز اور اس سے حاصل ہونے ہونے والا آمدن اس کےلئے حلال ہے، اس کو صدقہ کرنا لازم نہیں۔
کما فی تكملة فتح الملھم: ان التوظف فی البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل المؤظف فی البنك ما يعين على الربا، كالكتابة أو الحساب، فذالك حرام لوجھين الأول إعانة على المعصية و الثانی أخذ الأجرة من مال الحرام، فإن معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، و أما إذا كان العمل لا علاقة له بالربا فإنه حرام لوجه الثانی فحسب، فإذا وجد بنك معظم دخله حلال جاز فيه التوظف للنوع الثانی من الاعمال إلخ۔ (باب لعن أکل الربا و موکلہ،ج 1، ص 619، ط: دار العلوم کراچی)۔
و فی فتح القدير: و إذا اجتمع المباشر و المسبب فالإضافة إلى المباشر أولى کما صرحوا بہ سیما فی مسئلۃ الراکب و السائق إلخ۔ (باب جنایۃ البھیمۃ و الجنایۃ علیھا، ج 10، ص 336، ط:دار الفکر،لبنان)۔
و فی فقہ البیوع: و منع بعض الفقھاء البیع إن قصد بہ أحد المتعاقدین معصیۃ، و علم الآخر ذالک (إلی قولہ) أما الحنفیۃ، فاظاھر من متونھم: أنھم فرقوا بین ما قامت المعصیۃ بعینہ، فکرھوا بیعہ، کبیع السلاح من أھل الفتنۃ، و بیع أمرد ممن یفجر بہ، و بین ما لم تقم المعصیۃ بعینہ (إلی قولہ) و الذی ظھر لی بفضل اللہ و کرمہ فی الفرق بینھما، ھو: أن ما قامت المعصیۃ بعینہ ھو ما کانت المعصیۃ فی نفس فعل المعین، بحیث لا تنقطع عنہ نسبتھا بفعل ذالک المختار؛ و ذالک بثلاثۃ وجوہ: الأول: أن یقصد الإعانۃ علی المعصیۃ(إلی قولہ) والثانی بتصریح المعصیۃ فی صلب العقد، کمن قال: بعنی ھذا العصیر لأتخذہ خمرا، فقال بعتہ، أو آجر لی بیتک لأبیع فیہ الخمر، فقال: آجرتہ، فإنہ بھذا التصریح تضمن العقد نفسہ معصیۃ، مع قطع النظر عما یحدث بعد ذالک من اتخاذہ خمرا، وبیع الخمر فیہ(إلی قولہ) ففی جمیع ھذہ الصور قامت المعصیۃ بعین ھذا العقد، و العاقدان کلھما آثم بنفس العقد، سواء استعمل بعد ذالک فی المعصیۃ أم لا، و سواء استعملھا علی ھذہ الحالۃ، أو بعد استحداث صنعۃ فیہ، فإن استعملھا فی المعصیۃ، کان ذالک إثما آخر علی الفاعل خاصۃ۔ و لک أن ترجع الوجوہ الثلاثۃ إلی وجہ واحد، و ھو القصد و النیۃ، فإن القصد فی الوجہ الأول موجود صراحۃ، و فی الثانی و الثالث حکماً و معنیً إلخ۔ (الباب فی أحکام المتعلقۃبالمتعاقدین، ج 1، ص 180۔182، ط: البشری)۔
وفیہ أیضاً:یتلخص منہ،أن الانسان إذا قصد الإعانۃ علی المعصیۃ بإحدی الوجوہ الثلاثۃ المذکورۃ فإن العقد حرام لا ینعقد و البائع آثم۔ أما اذا لم یقصد ذلک، وکان البیع سببا للمعصیۃ، فلا یبطل العقد، و لکن إذا کان سببا محرکا، فالبیع حرام ،وإن لم یکن محرکا، وکان سببا قریبا بحیث یستخدم فی المعصیۃ فی حالتھا الراھنۃ، و لا یحتاج إلی صنعۃ جدیدۃ من الفاعل کرہ تحریما و إلا فتنزیھا۔ و علی ھذا یخرج حکم بیع البناء أو إجارتہ لبنک ربوی؛ فإن قصد البائع الإعانۃ، أو صرح فی العقد بکونہ یستخدم للأعمال الربویۃ، حرم البیع و بطل۔ و الظاھر أن المستأجر حینما یعقد البیع أو الإجارۃ لإقامۃ فرع لبنک مثلاً، فإنہ فی حکم التصریح بأن البناء یستعمل للأعمال الربویۃ، أما إذا بیع البناء أو أجر لغرض آخر للبنک، مثل التخزین و غیرہ، فلا یدخل فی ذالک الحکم، و لیس سببا قریبا للمعصیۃ، فینبغی أن یجوز مع الکراھۃ تننزیھاً۔ و کذلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فان قصد بذلک الإعانۃ، أو کان البرنامج مشتملا علی ما لایصلح إلا فی الأعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فإن العقد حرام باطل۔أما إذا لم یقصد الإعانۃ ،و لیس فی البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ،صح العقد و کرہ تنزیھا إلخ۔(الباب الثانی فی الأحکام المتعلقۃ بالمتعاقدین،ج 1، ص 186۔187، ط: معارف القرآن)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0