ارتداد

گستاخِ رسول کی سزا کیا ہے ؟

فتوی نمبر :
78996
| تاریخ :
2024-10-28
عقائد / ایمان و کفر / ارتداد

گستاخِ رسول کی سزا کیا ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب میں صرف رسول اللہﷺ کے گستاخ کی سزا کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، میں نے سنا ہے کہ اس معاملے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے کوئی سزا متعین نہیں ہے، بلکہ عدالت کو ایسے معاملے میں سزا کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے، براہ ِمہربانی مجھے بتائیں کہ اس معاملے حقیقت کیا ہے؟ کیا سزا مسلمان اور غیر مسلم دونوں کے لئے یکساں ہے؟ اور کیا موت کی سزا صرف اس شخص کے لئے ہے جو بار بار توہینِ رسالت کا مرتکب ہوتا ہے یا جوشخص ایک بار مجرم ہوتا ہے وہ بھی اسی سزا کا مستحق ہے؟اور اگر وہ شخص معافی مانگتا ہے، تو کیا عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزائے موت کی سزا کو کسی اور سزا کے ساتھ تبدیل کرسکتی ہے یا اسے مکمل طور پر معاف کرسکتی ہے؟براہ مہربانی میری رہنمائی کریں کہ کیا توہینِ رسالت کی سزا کے بارے میں امتِ مسلمہ کا مشترکہ اتفاق رائے ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا کائنات کا سب سے بدترین جرم ہے، جس کا تذکرہ کئی ایک آیاتِ قرآنیہ اور احادیث میں موجود ہے، اور ایسا شخص بہت سخت گناہ گار اور تائب نہ ہونے کی صورت میں واجب القتل ہے، اور یہ ائمہ اربعہ کا مسلک ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے، تاہم اگر یہ شخص سچے دل سے پوری ندامت کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ کی قبولیت اور سزا معاف ہونے میں متقدمین احناف فقہاء کرام اور متأخرین کا اختلاف ہے، متقدمین احناف فقہاء کرام کے نزدیک اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور اس سے قتل کی سزا بھی ساقط ہوجائیگی، بشرطیکہ یہ عادی مجرم نہ ہو اور بار بار اس فعلِ قبیح کا مرتکب نہ ہورہا ہو، جبکہ کافر اگر آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، تو اس کو حداً قتل کیا جائیگا، اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائیگی، جبکہ آنحضرت ﷺ کو اپنی حیاتِ طیبہ میں یہ حق حاصل تھا کہ آپ سب وشتم کرنے والے کو معاف فرمادیں، لیکن آپ کے بعد امت کو معاف کرنے کا حق حاصل نہیں، اس لیے آپ نے اپنی زندگی میں کسی دریدہ دہنی کرنے والے موذی کو معاف فرمایا یا کسی سے درگزرکا معاملہ کیا تو چونکہ یہ خالص آپ کا حق تھا، اس لیے آپ نے اپنے حق کو معاف کیا تھا، لیکن امت کے حق میں یہ قانون قانونِ الٰہی کی حیثیت رکھتا ہے کہ شاتم رسول کو موت کی سزا دی جائے، اس لیے امت اس قانون کو منسوخ یا معطل کرنے اور شاتم رسول کو معاف کرنے کی مجاز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ (12) أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (13) قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ (14) وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (15)(سورۃ التوبۃ )۔
قال اللہ تعالی: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ( سورۃ الأنفال آیۃ 39 )۔
کما فی الدرالمختار: من نقص مقام الرسالة بقوله بأن سبه - صلى الله عليه وسلم - أو بفعله بأن بغضه بقلبه قتل حدا كما مر التصريح به، لكن صرح في آخر الشفاء بأن حكمه كالمرتد،ومفاده قبول التوبة كما لا يخفى،الخ ( ج4 ص 232 باب المرتد مطلب مھم فی حکم ساب الأنبیاء ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله لكن صرح في آخر الشفاء إلخ) هذا استدراك على ما في فتاوى المصنف.(الی قولہ) فهذا كلام الشفاء صريح في أن مذهب أبي حنيفة وأصحابه القول بقبول التوبة كما هو رواية الوليد عن مالك،الخ (ج4 ص 233 باب المرتد ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: (وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر و (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا،(الی قولہ) من نقص مقام الرسالة بقوله بأن سبه - صلى الله عليه وسلم - أو بفعله بأن بغضه بقلبه قتل حدا كما مر التصريح به، لكن صرح في آخر الشفاء بأن حكمه كالمرتد،ومفاده قبول التوبة كما لا يخفى،الخ(ج4 ص 231 باب المرتد ط سعید)۔
وفی رد الحتار: تحت (قوله لكن صرح في آخر الشفاء إلخ) هذا استدراك على ما في فتاوى المصنف(الی قولہ) وبمثله قال أبو حنيفة وأصحابه إلخ أي قال إنه يقتل يعني قبل التوبة لا مطلقا، ولذا استدرك بقوله لكنهم قالوا هي ردة: يعني ليست حدا الخ(ج4 ص232باب المرتد ط سعید)۔
وفی الصارم المسلول علی شاتم الرسول: أن من سب النبي صلى الله عليه وسلم من مسلم أو كافر فإنه يجب قتله.هذا مذهب عليه عامة أهل العلم قال ابن المنذر: "أجمع عوام أهل العلم على أن حد من سب النبي صلى الله عليه وسلم القتل" وممن قاله مالك والليث وأحمد وإسحاق وهو مذهب الشافعي (الی قولہ) وقد حكى أبو بكر الفارسي من أصحاب الشافعي إجماع المسلمين على أن حد من يسب النبي صلى الله عليه وسلم القتل الخ ( 1/3 المسألة الأولى ط الحرس الوطني السعودی)۔
وفیہ ایضاً: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان له أن يعفو عمن شتمه وسبه في حياته وليس للأمة أن يعفو عن ذلك. الخ ( 1/226 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78996کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا ہرمرتدواجب القتل ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   ارتداد 0
  • مرتد ہونے کی وجہ سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ارتداد 0
  • رزق میں برکت کا وظیفہ

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • مرتد عورت کے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • شادی اور نکاح کیلۓ اسلام قبول کرکے کفر اختیار کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • وظیفہ براۓ ترقئی کاروبار

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والے کی سزا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ، دم، درود وغیرہ کا احادیثِ مبارکہ سے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • دعا میں درود شریف کو حمد وثناء پر مقدم کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • ذکر و اذکار کی مجلسیں قائم کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • بائیں ہاتھ پر تسبیحات کرنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • تعویذ کی شرعی حیثیت اسلام میں

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • درود تاج پڑہنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • وظیفہ براۓ مرض بال خورہ

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • مرتد اورگستاخِ رسول کی سزا کیا ہے؟

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • اذکار و اوراد میں گنتی کیلۓ کجھور کی گھٹلیوں کا استعمال

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • فرض نماز کے بعد کلمہ طبیہ باآواز بلند پڑھنا

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • درود و سلام سے کیا مراد ہے جس کا قرآن میں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • غیر مسلم سے منتر پڑھواکر دم کروانا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • عیسائیت اختیار کرنے کے بعد دو بارہ اسلام کی طرف آنا

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • نجومی کو ہاتھ دکھانے اور قسمت وغیرہ کے پوچھنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ارتداد 1
  • عملیات سے علاج کا حکم

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • جنات کی حقیقت اور ان کا جسمِ انسانی میں حلول

    یونیکوڈ   ارتداد 0
  • استخارہ کون کرے اور کیسے کرے

    یونیکوڈ   ارتداد 0
Related Topics متعلقه موضوعات